ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

سائنس و صحت RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

پس دیوار دیکھنے والا آلہ

شیئر کیجیئے


امریکی یونیورسٹی یوٹاہ کے سائنس دانوں نے ایک ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس کی  وائی فائی سگنلز یعنی  ریڈیو یا ٹیلی فون سگنلز کے ذریعے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ دیوار کے پار کیا ہورہاہے۔

یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ بے ضرر گھریلو وائی فائی سگنلز  کی مدد سے دیوار کے پار ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی وائرلس نیٹ ورک کے ریڈیو سگنلز میں آنے والی تبدیلیوں کے ذریعے بند دروازوں کے پیچھے یا دیوار کی دوسری جانب نقل و حرکت کا پتا چلایا جاسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف یوٹا کے جوئے ولسن اور نیل پٹویری نےریڈیو ٹوموگرافی کے اصول کو مدنظر رکھ کرتجربات کیے۔  انہوں نے اپنے تجربات میں  وائرلس لہروں کے درمیان کسی چیز کے حائل ہونے سے پیدا ہونی والی تبدیلی کی پیمائش کرنے کی کوشش کی۔ انہیں معلوم ہوا کہ جب کوئی چیز وائرلس لہروں میں رکاوٹ ڈالتی ہے تو وہ  آلہ تبدیلی کی سطح کو محسوس کرتا ہے،  اور یہ معلومات ایک کمپیوٹر کو فراہم کردیتا ہے۔

ابھی اس نظام کے ذریعے دیوار کی دوسری جانب صرف تین فٹ کے فاصلے تک چیزوں کی موجودگی یا نقل و حرکت کا کھوج لگایا جاسکتا ہے۔  فی الحال دیوار کے پاس موجود چیزوں کی واضح تصویر حاصل نہیں کی جاسکتی،  تاہم ماہرین کو امیدہے کہ وہ مستقبل میں واضح تصویریں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو امدادی کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔  اور ہنگامی امداد کی ٹیمیں وائی فائی نیٹ ورک کے ذریعے تباہ شدہ علاقوں میں متاثرہ اور زندہ بچ جانے والے افراد کو تلاش کرسکتی ہیں۔

آرکائیو سائنس میں اپنے ایک مضمون میں جوئے ولسن اور نیل پٹویری نے لکھا ہے  کہ ہم اس کی  مدد سے کسی عمارت کے اس سے ملتے جلتے خاکے بناسکتے ہیں۔  ہنگامی امدادی کارکن،  فوجی یا پولیس اس عمارت کےپاس پہنچ جاتے ہیں جس کے اندر داخل ہونا خطرناک ہوسکتا ہے۔  وہ اس  عمارت کے گرد ریڈیو سینسر لگا دیتے ہیں۔ 

 وہ کہتے ہیں کہ ریڈیو سینسر فوری طور پر اپنا ایک نیٹ ورک قائم کرلیتے ہیں  اوروہ گوگل نقشوں کے ڈیٹا بیس سے عمارت کے سائز اور شکل کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں اور اس سلسل میں جی پی ایس سے بھی مدد حاصل کرتے ہیں۔  اس کےبعد وہ سگنلز نشر کرنا شروع کردیتے ہیں  اورجب وہ لہریں عمارت یا کسی مخصوص علاقے گذرتی ہیں تو وہ ان کی پیمائش کرتے ہیں۔ پیمائش سے متعلق ان معلومات کو مرکزی اسٹیشن پر بھیج دیا جاتا ہے اور انہیں اس مقام یا عمارت کے اندر چیزوں یا لوگوں کی موجودگی کے مقام یا نقل وحرکت کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

(آرکائیو سائنس سے ماخوذ)