ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

سائنس و صحت RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

صدر اوباما کے صحت کی اصلاحات کا منصوبہ تنقید کی زد میں

شیئر کیجیئے


صدر اوباما کہتے ہیں کہ امریکہ کے ہر طبقے کے عوام تک علاج معالجے کی سستی سہولتیں پہنچانے کا وقت آگیا ہے اور اگر اس وقت یہ اقدامات نہ کئے گئے  تو اس کی بھاری قیمت اداکرنی پڑے گی  ۔مگر امریکہ کے مختلف شہروں میں ٹی پارٹیز کے نام پر اکٹھے ہونے والے اجتماعات میں عوام کا ایک طبقہ صدر اوباما کی صحت عامہ کی پالیسی کے خلاف  برہمی کی تصویربنا ہوا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب  امریکہ ایک زبردست اقتصادی بحران سے نکلنے کی کوشش میں ہے، صدر اوباما کا منصوبہ انتہائی مہنگا ثابت ہوگا۔

امریکی عوام مجموعی طور پر سالانہ سوا دو کھرب ڈالر کی رقم اپنی صحت کے اخراجات ادا کرنے پر خرچ کرتے ہیں ۔ماہرین کے مطابق یہ لاگت اگلے دس سال میں دوگنی ہوجائے گی ۔اگر ان اخراجات کو کنٹرول کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا جاتا تو ماہرین کی مطابق صورتحال اس سے بھی بد تر ہو سکتی ہے۔

امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ  کے نورمن اورن سٹین  کہتے ہیں کہ یہ غیر یقینی ،ہر سال بڑھتے اخراجات،رویوں میں آنے والی تبدیلیاں،کم ہوتی مراعات، مطلب نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

گویا امریکی عوام کی تنخواہیں اور صحت کے اخراجات بڑھنے کا تناسب ایک سا نہیں رہا ۔امریکہ کے محکمہ صحت اور  ہیومن سروسز کے مطابق  یہاں علاج معالجے کے اخراجات جو 1965میں  کل قومی پیداوار کا  چھ فیصد تھے 2008 میں بڑھ کر 17 فیصد ہو گئے ۔ماہرین کے مطابق اگر صورتحال یہی رہی تو 2036تک علاج معالجے کے اخراجات  پر لوگوں کی کل إٓمدنی کا41 فیصد خرچ ہوا کرے گا اور لوگ انشورنس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکیں گے ۔گزشتہ ہفتے صدر اوباما نے اراکین کانگریس سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ صورتحال جوں کی توں رکھنے کا راستہ موجود نہیں ہے۔

صدر اوباما کا کہناتھا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اگر کچھ نہ کیا گیا تو بجٹ کا خسارہ بڑھتا جائے گا ۔مزید خاندان دیوالیہ اور مزید کاروبار بند ہونگے۔

پرائیوٹ ہیلتھ انشورنس کمپنیوں کے عہدے دار وں کو خدشہ ہےکہ صدر اوباما کا منصوبہ صحت کے شعبے کو سرکاری تحویل میں لینے کی کوشش ہے۔کیرن اگنانی پرائیویٹ ہیلتھ انشورنس کمپنیوں کی ایک تنظیم کی سربراہ ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم ایک نیا سرکاری پروگرام شروع کر رہے ہیں جو باقی سب پروگرام ہڑپ کر جائے گا۔

بعض ماہرین اس تاثر کو درست نہیں سمجھتے ۔تحقیقی ماہر این میتھیاس کے خیال میں یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ سرکاری پوسٹل سروس کو نجی کورئیر کمپنیوں کے برابر لا کھڑا کریں ۔ان کا کہنا ہے کہ کیا آپ کسی سرکاری کمپنی سے توقع کر سکتے ہیں کہ وہ کسی پرائیویٹ  کمپنی کو کاروبار سے باہر کر سکتی ہے۔

مگر دس برسوں میں ایک کھرب ڈالر کے پرائس ٹیگ کے ساتھ ناقدین کا کہنا ہے کہ صحت عامہ کی اصلاحات پہلے سے مشکلات کا شکار امریکی معیشت کو دوبارہ پٹری سے اتار سکتی ہیں۔

ماہر معاشیات مارک زینڈی مانتے ہیں کہ یہ ایک جوا ہے مگر ایسا جو صدر اوباما کو کھیلنا ہی پڑے گا ۔وہ کہتے ہیں کہ صحت عامہ کی اصلاحات کا مقصد علاج  معالجے کے اخراجات میں دور رس کمی  کرنا ہے  ۔اور دور رس کمی سے مراد ہے اگلے دس سے پچاس سالوں کے دوران ۔اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہمارے مالیاتی اور بجٹ کے مسائل شدید ہو جائیں گے ۔

مارک زینڈی کہتے ہیں کہ صحت عامہ کے اخراجات سے نمٹنے میں ناکامی امریکہ پر سرمایہ کاروں کا اعتماد کم کردے گی جس سے مکمل معاشی بحالی کا امکان اور بھی کم ہو جائے گا۔