اگر آپ شادی کرنے سے پہلے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کی ہونے والی شریک حیات بڑھاپے میں کیسی دکھائی دے گی توآپ اس کی والدہ کو دیکھ لیں۔مغرب میں رائج اس کہاوت کے بارے میں ایک حالیہ تحقیق کے بعد سائنس دانوں نے اس کی سچائی کی تصدیق کی ہے۔
ماہرین کو معلوم ہوا ہے کہ ماؤں اور بیٹیوں کے چہروں کی جلد میں عمر کے بڑھنے کےساتھ ساتھ بالکل ایک جیسی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔
ماہرین کو ماؤں اور بیٹیوں کے چہروں کی سکینگ کے بعدپتہ چلا کہ ان کی جلد اور خاص طورپر ان کی آّنکھوں کے اردگرد کے نازک ٹشوز کے کمزور ہونے اور ان میں موجود لچک میں کمی ایک ہی انداز سے آتی ہے۔
امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سیاٹل میں امریکن سوسائٹی آف پلاسٹک سرجنز کی کانفرنس میں پیش کی جانے والے اس ریسرچ کے محققین کا کہنا ہے کہ یہ مشابہت اس وقت سب سے زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے جب بیٹیاں لگ بھگ 35 سال کی عمر کو پہنچ جاتی ہیں۔
کیلی فورنیا کی لوما لنڈا یونیورسٹی کے میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹر میتھیو کیمپ اور ان کی ٹیم کا کہنا ہے کہ چہرے پر عمر کے بڑھنے کے اثرات سے متعلق اب تک جو مطالعاتی جائزے کیے گئے تھے ، وہ زیادہ تر مشاہداتی یا غیر سائنسی نوعیت کے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ سائنسی طریقوں سے درحقیقت یہ پہلی بار ثابت ہوا ہے کہ مائیں اپنی بیٹیوں کے بڑھاپے کا حقیقی عکس ہوتی ہیں۔
اس تحقیق کے لیے ماہرین نے چہرے پر عمر کے بڑھنے کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے 15 سے 90 سال کی عمر کی، ایک جیسی دکھائی دینے والی ماؤں اور بیٹیوں کے 10 گروپس پر تجربات کیے۔
اس تحقیق کے لیے انہوں نے تھری ڈی کمپیوٹر ماڈلنگ اور کمپیوٹر پر چہرے کی تصویر بنانے کے خصوصی سافٹ ویر کا استعمال کیا۔ انہیں معلوم ہوا کہ ماؤں اور بیٹیوں کے چہرے کی جلد کے ڈھیلے پڑنے اور سکڑنے ، خاص طورپر آنکھ کے اردگرد آنے والی تبدیلیوں کا انداز بالکل ایک جیسا تھا۔
آنکھ کے اردگرد نرم ٹشوؤں کے تجزیے سے بھی ماہرین کو یہ پتہ چلا کہ ان کی لچک میں کمی اور ان کی فربہی کا انداز بھی ایک جیسا تھا۔
اپنے حسن کو برقرار رکھنے اور چہرے پر عمر کے اثرات کو چھپانے کے لیے برطانیہ میں کاسمیٹک سرجری کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور وہاں بریسٹ سرجری کے بعد آنکھوں اورپپوٹوں کے گرد جھریوں کی سرجری سب سے عام ہے۔
ماہرین کے کہنا ہے کہ آنکھوں کے اردگرد اور آنکھوں کے نیچے عمر بڑھنے کے اثرات اس لیے ظاہر ہوتے ہیں کیونکہ عمر میں اضافے کے ساتھ وہاں کی جلد میں لچک کم ہوجاتی ہے اور پٹھے ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔
اس تحقیق کے نتائج سے اس پرانی کہاوت کی تائید ہوتی ہے کہ بیٹیوں کی شکلیں عمر میں اضافے کے ساتھ اپنی ماؤں جیسی ہوتی چلی جاتی ہیں۔
عمومی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں عمر بڑھنے کےاثرات زیادہ واضح طور پر ظاہر ہوجاتے ہیں کیونکہ عورتوں کے چہروں کی جلد عمر بڑھنے کا اثر زیادہ جلدی قبول کرتی ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عمر بڑھنے سے ان کے چہروں کی ساخت میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔
چہرے کی جلد کے ایک معروف برطانوی سرجن نارمن واٹر ہاؤس کا کہنا ہے کہ خواتین کے چہروں پر عمر اس لیے جلد ظاہر ہوتی ہے کیونکہ عمر میں اضافے کے ساتھ ان کے چہروں کی ساخت بھی بدل جاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نوجوانی میں جن خواتین کے چہرے بیضوی شکل کے ہوتے ہیں ، عمر بڑھنے کے ساتھ وہ زیادہ چوکور دکھائی دینے لگتے ہیں جب کہ مردوں کے چہرے ساری عمر چوکور ہی رہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ خواتین میں مردوں کے مقابلے میں چہروں کی سرجری کروانے کا رجحان زیادہ عام ہے۔کیونکہ سرجری کے ذریعے چہرے پر عمر ظاہر ہونے کے اثرات دور کرنے اور جھریاں ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
(ٹیلی گراف سے ماخوذ)