برطانوی اخبار ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلائی دور بین سے تصویریں حاصل کرنے والے ایک برطانوی سائنس دان نے کہا ہے کہ ان تصویروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے ستاروں کی مسلسل تخلیق کے عمل میں کہکشاں شدید نوعیت کی متلاطم کیفیت سے گزررہی ہے۔
خلائی تحقیق کے لیے ہرشل کومئی خلا میں بھیجا گیاتھا۔ اسے کائنات میں دور دراز سے آنے والی انفرریڈ لہروں کے مطالعے کے لیے خاص طور پر ڈیزائن کیا گیاہے اور اس پر سب سے بڑی خلائی دور بین نصب ہے۔
ان کیمروں سے صرف کہکشاں کےبارے میں ماہرین فلکیات کو نئی معلومات ہی حاصل نہیں ہورہی ہیں بلکہ انہیں یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ کائنات میں کتنا مادہ موجود ہے، اس کا جحم کیا ہے، اس کی ساخت کیسی ہے، درجہٴ حرارت کیا ہے اور آیا کائنات میں موجود کچھ مادہ نئے ستاروں کی تخلیق کے لیے شکست و ریخت کے عمل سے گذر رہا ہے۔
کارڈیف یونیورسٹی کے پروفیسر میٹ گریفن کا کہنا ہے کہ ہمیں ہرشیل کی مدد سے کی جانے والی تحقیق سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ اس میں کہکشاں کے مطالعے کے لیے پہلی باردو کیمروں کو ایک نئی ٹیکنیک کے ذریعے ایک ساتھ استعمال کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ تکنیکی اعتبار سے کہکشاں کے مطالعے کا کام اتنا بہتر ہوا ہے اور سائنسی نقطہٴ نظر سے اس کے نتائج بہت شان دار ہیں۔ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے ستاروں کی تخلیق میں کہکشاں کو شدید تلاطم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس تحقیق کے لیے دوآلات کی مدد سے کہکشاں کے ایک مخصوص حصے کی اتنی بڑی 16 تصویریں اتاری گئیں جتنا کہ زمین پر سے چاند دکھائی دیتا ہے۔
کارڈیف یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیرک وارڈ ٹامسن کا کہنا ہے کہ ان تصویروں سے حاصل ہونے والی تفصیلات حیران کن ہیں اور ہمیں ان ستاروں کے درمیان موجود میڈیم کے بارے میں ایسی تصویریں حاصل ہوئی ہیں جو اس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔
وہ کہتے ہیں کہ نئی تصویروں سے ہمیں کائنات میں ستاروں کی تخلیق کے راز وں سے پردہ اٹھانے میں مدد مل رہی ہے جو اس سے پہلے کبھی ممکن نہیں ہوا تھا۔ہرشیل ہماری تمام توقعات پر پورا اتر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طریقے سے ہرشیل کے ذریعے کہکشاں کے بڑے حصوں کا ترتیب وار سروے کیا جائے گا، جس سے ماہرین فلکیات کو ستاروں کی تخلیق کے رازوں سے پردہ اٹھانے میں مدد ملے گی۔
ڈاکٹر پیٹر ہار گریوو،جنہوں نے یہ خصوصی کیمرہ بنانے کی ٹیم کی قیادت کی ہے، کہتے ہیں کہ میں ان تصویروں کی خوب صورتی دیکھ کرششدر رہ گیا۔ ہم جزیات کو اپنے تمام تر حسن کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح مادے سے ستارے پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں آلات یعنی سپائراور پیکس مل کر بہت اچھے نتائج دے رہے ہیں۔ جس سے یہ آلات تیار کرنے والی ٹیموں کو ان کی برسوں کی مہارت اور سخت محنت کا پھل مل گیا ہے۔ ہم سب بہت خوش ہیں۔