عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال پانچ کروڑ افراد ڈینگی بخار سے متاثر ہوتے ہیں۔ اور دنیا کی تقریباَ ڈھائی ارب آبادی کو اس سے خطرہ لاحق ہے۔ ٕ پاکستان بھی مچھر سے پھیلنے والے اس مرض کی لپیٹ میں ہے اور امریکی ریاست ٹیکساس کے کئی علاقے بھی اس کی زد میں آچکے ہیں۔ ڈینگی بخار پر تحقیق کرنے والے ایک امریکی ادارے نے کہا ہے کہ اس مرض پر جلد ہی مؤثر طریقے سے کنٹرول ممکن ہوسکے گا۔
ڈینگی بخار کے علاج کی تحقیق کے لیے چوہوں پر تجربات کیے جارہے ہیں۔ ا ن کے جسم میں جو انسانی خلیے ڈالے گئے ہیں اور ان میں اب انسانوں کی طرح ڈینگی بخار کا وائرس منتقل کیا جا سکے گا۔ ان چوہوں میں منتقل کئے گئے خلیے مقامی اسپتالوں سے لئے گئے ہیں۔ ساؤتھ ویسٹ فاؤنڈیشن فار بائیومیڈیکل ریسرچ کی ربیکا ہسنے اور اس کی ٹیم ڈینگی وائرس پرتحقیق کے لئے ان چوہوں کا استعمال کررہی ہے۔
ربیکا کا کہنا ہے کہ ہم نے اصل میں ان چوہوں کے اندر انسانی مدافعتی نظام بنایا ہے کیونکہ ان کا اپنا نظام باآسانی ڈینگی بخار کے جراثیم سے متاثر ہوتا ہے۔
چوہوں کے اندر اس بخارکے وائرس منتقل کرنے سے سائنس دان اس بارے میں تحقیق کررہے ہیں کہ یہ بیماری کس طرح جسم میں جڑ پکڑتی ہے اور اکثراوقات کیوں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ ربیکا اور اس کی ساتھی ہاوئیر موٹا نے اب اپنی تحقیق پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس سے اس خطرناک اور مہلک بیماری کا علاج ڈھونڈنے میں مدد مل سکے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں ہم نے آٹھ مختلف وائرسز کے نتائج پیش کئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کون سے اس مرض کا باعث بنتے ہیں اور کس خاص وائرس سے مریض کو زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔
عمومی طور پر مچھر ڈینگی پھیلاتے ہیں۔ جب یہ کاٹتے ہیں تو یہ جلد میں ایک پروٹین داخل کر تے ہیں مگر جب لیبارٹری میں مصنوعی طریقے سے چوہوں پر یہ عمل دوہرایا جاتا ہے تو یہ نتیجہ نہیں نکلتا۔ اس لئے اب سائنس دان مچھر پال رہے ہیں جو چوہو ں کو کاٹیں گے جس سے یہ وائرس چوہوں میں منتقل ہوسکے گا۔
ان کا کہناہے کہ اگر آپ ایک سرنج کے ذریعے وائرس منتقل کرتے ہیں تو آپ ان عوامل اور چیزوں کا تجربہ نہیں کرتے جو فطری طور پر ایک وائرس کو جنم دیتے ہیں یا اس کے پھیلاو کی رفتار بڑھانے اور کم کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
ربیکا نے لاطینی امریکہ میں ڈینگی بخار سے متاثر بہت سے مریضوں پر تحقیق کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے بہت سے ملکوں میں جا کر اس مرض میں مبتلا لوگوں اور اسپتالوں میں بچوں کو مرتے دیکھا ہے جس کی وجہ سےمجھے اس پر فوری کام کرنے کا احساس ہوا۔
ڈینگی سے بچاؤ کی دوا یا ویکسین شاید جلد تیار نہ ہوسکے تاہم سائنس دانوں کو توقع ہے کہ ان کے اقدامات سے ایک دن اس مرض پر قابو پایا جاسکے گا۔