ناسا کی طرف سے جاری کردہ اس فرضی تصویر میں مصنوعی سیارہ اور راکٹ چاند کے قریب پہنچنے والے ہیں
جہاز ٹکرانے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر سائنس دان یہ معلوم کر لیں گے کہ آیا چاند کی گرد میں پانی یا برف موجود ہے
امریکی خلائی ادارہ ناسا چاند کی سطح پر ایک خلائی جہاز گرانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا چاند کی سطح پر پانی موجود ہے یا نہیں۔
ناسا کا کہنا ہے کہ وہ جمعے کے روز چاند کے قطبِ جنوبی پر ایک استعمال شدہ راکٹ گرائے گا جس سے چاند کی فضا میں گرد کا بادل بلند ہو جائے گا۔
یہ راکٹ اس وقت ایک خصوصی مصنوعی سیارے LCROSS سے منسلک ہے۔ راکٹ کے چاند سے ٹکرانے کے بعد مصنوعی سیارہ گرد کے بادل کا مطالعہ کرے گا اور اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرے گا کہ آیا اس میں پانی کے آثار پائے جاتے ہیں یا نہیں۔
مصنوعی سیارہ گرد کی تصاویر براہِ راست زمین پر بھیجنے کے بعد خود بھی چاند سے ٹکرا جائے گا۔ ناسا کا کہنا ہے کہ ایک گھنٹے کے اندر اندر سائنس دان یہ معلوم کر لیں گے کہ آیا چاند کی گرد میں پانی یا برف موجود ہے۔
خلائی ادارے کے حکام کا کہنا ہے کہ چاند پر پانی کی موجودگی کی تصدیق سے قمری مہم جوئی کی رفتار میں اضافہ ہو جائے گا۔ ناسا چاند پر ایک بار پھر انسان اتارنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
ناسا غیر پیشہ ور ماہرینِ فلکیات کو ترغیب دے رہا ہے کہ وہ اپنی دوربینوں سے اس تصادم کا مشاہدہ کریں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ملبے کے بادل دس انچ یا اس سے بڑے قطر کی دوربین سے دیکھے جا سکیں گے۔ ناسا اس واقعے کو اپنی ویب سائٹ پر براہِ راست دکھائے گا۔