اب جب کہ نائن الیون کو آٹھ سال ہوچکے ہیں اوردنیا کے مختلف حصوں میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری ہے، اور دوسری جانب سیکیورٹی امور کے امریکی ماہرین مستقبل میں دہشت گردی کےجراثیمی اور حیاتیاتی حملے کے امکان پر اپنے خدشات کا اظہار کررہے ہیں ۔حال ہی میں امریکی سینیٹرز نے ایک ایسا بل پیش کیا ہے جس میں خطرناک اور بڑے پیمانے پر مہلک وبائی امراض پھیلانے والے جراثیموں کی فہرست کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بل مستقبل میں کسی حیاتیاتی حملے کی پیشگی روک تھام میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
یہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے صرف ایک ہفتے کے بعد کی بات ہے ۔ایک مہلک بیکٹیریا انتھریکس پوسٹ آفس کے ذریعے امریکی سینیٹرز اور میڈیا آؤٹ لیٹس کو بھیجا جاتا ہے۔جس سے پانچ افراد ہلاک جبکہ 17 متاثر ہوتے ہیں ۔ ماہرین کی اکثریت متفق ہے کہ امریکہ اس وقت ایک بیالوجیکل حملے کے لیے تیار نہیں تھا ۔کچھ کے خیال ہے کہ اب بھی صورت حال ویسی ہی ہے ۔کانگریس کی منظوری سے بننے والے ایک کمیشن کی رائے میں اگلے چار برسوں کے دوران دنیا میں کہیں نہ کہیں بیالوجیکل حملے ہونے کا خدشہ ہے ۔اور اسی چیز نے ہوم لینڈ سیکیورٹی کمیٹی میں شامل امریکی سینیٹرز کو اس حملے کی روک تھام کے لیے ایک بل متعارف کروانے کی تحریک دی۔
ری پبلیکن سینیٹر سوزن کولنز کا کہنا ہے کہ ایک حیاتیاتی ہتھیا ر بنانے اور اس کے استعمال کے لیے تکنیکی رکاوٹیں پہلے سے کم ہوگئی ہیں ۔ خطرناک جراثیموں تک سہل اور ان پر قابو پانا پہلے سے مشکل ہوچکا ہے۔
وفاقی ماہرین کے مطابق امریکہ کے چار سو تحقیقی اداروں کے 15 ہزار افراد کو بیماری پھیلانے والے خطرناک ترین جراثیموں پر کام کرنے کی اجازت ہے۔ جیسے واشنگٹن کے قریب واقع امریکی آرمی کی بائیو ڈیفنس لیبارٹری، جس کے بارے میں ایف بی آئی کے خیال ہے کہ سن 2001 میں مہلک اینتھریکس وہیں بنائی گئی تھی ۔یہ بل خطرناک ترین جراثیموں کے لیے زیادہ سخت سیکیورٹی اور کم خطرناک کے لئے نرم پابندیوں پر مشتمل 82 جراثیموں پر ایک نظام قائم کرے گا ۔ پہلے مرحلے میں چیچک اور اینتھریکس شامل ہوں گے ۔مزید سیکیورٹی کےلیے پانچ کروڑ ڈالرز سالانہ مختص کیے جائیں گے۔
سینیٹرز کو امید ہے کہ اس بل سے قابل تقلید معیار قائم ہوگا ۔ بوب گراہم مستقبل میں بیالوجیکل حملے کی پیشین گوئی کرنے والے کمیشن کے چئیر مین ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں تقریباً 20 ممالک کے پاس بیماریوں کے جراثیم پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔کم از کم بیس مزید ممالک اپنی صلاحیت بڑھا رہے ہیں ۔ ہمیں اس مسئلے پر قابو پانے کی فوری ضرورت ہے ۔ہمارے پاس وقت کم ہے۔
یہ بل ان ممالک کی نشاندہی کرنے کے بعد ان کی لیب سیکیورٹی کو مضبوط بنائے گا اور پہلے مرحلے کے جراثیموں پر کام کرنے والے سائنسدانوں کی تربیت بھی ممکن بنائے گا ۔امریکن ایسو سی ایشن فار دا ایڈوانس منٹ آف سائنس کی ایک عہدے دار کویتا برگر کہتی ہیں کہ ترقی کی جانب گامزن کئی ممالک میں مچھروں سے پھیلنے والے ملیریا جیسی بیماریوں کے جراثیموں کی بہتات ہے۔
غالباً چیچک اور 1918 میں پھیلنے والے انفلونزا وائرس کو چھوڑ کر تمام ایجنٹز قدرتی ہیں جو کہ دنیا میں کہیں نہ کہیں قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں۔ ہمارے بہت سے ایجنٹز دنیا کے دوسرے خطوں میں صحت کے لیے خطرہ ہیں۔
اس بل میں انٹرنیشنل امداد کی مد میں اگلے سال کے لیئے چار کروڑ جبکہ 2011 میں75 کروڑ ڈالرز رکھے گئے ہیں ۔کچھ لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ اس قسم کی سیکیورٹی کا اطلاق11 ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں کے فوراً بعد نہیں کیا گیا تھا۔ سائنسدان اور قانون دان اس کےلیے حکومت کے مخلتف اداروں کے درمیان رقابتوں اور کمیونیکیشن کی کمی کو ذمے دار قرار دیتے ہیں۔