اس سے دہشت گرد منصوبوں کو ناکام بنانے میں مدد ملے گی
برطانوی سائنس دان ایک ایسا آلہ ایجاد کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں جوکسی دہشت گردی کی موجودگی سے قبل از وقت خبردار کرسکے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا بروقت پتہ چلنے کے باعث ان کے منصوبوں کو ناکام بنانے میں مدد ملے گی۔ سائنس دانوں کو کہناہے کہ یہ آلہ جرم کے ارادے سے کسی جگہ جانے والوں کے بارے میں بھی پیشگی اطلاع دے سکے گا۔
حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان، افغانستان اور عراق سمیت کئی ملکوں میں بے گناہ شہری دہشت گردوں کا نشانہ بن رہے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک بھی مسلسل اس خطرے کا سامنا کررہے ہیں۔
دہشت گردی کے واقعات کی ایک اہم وجہ دہشت گردوں کی شناخت میں ناکامی ہے اور وہ عام شہریوں کے بھیس میں اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہناہے کہ اس نئے آلے کی مدد سے عام شہریوں میں چھپے ہوئے دہشت گرد کو پہنچانے اور پکڑنے میں مدد مل سکے گی۔
نیا آلہ انسانی جسم کی اس قدرتی کیفیت کا کھوج لگاتا ہے جسے خوف کہا جاتا ہے۔ دہشت گردی یا جرم کی نیت سے کہیں جانے والا شخص، خواہ بظاہر کتنا ہی پرسکون اور مطمئن دکھائی دیتا ہو، وہ اندورنی طورپر خوف میں مبتلا ہوتا ہے۔ خوف کی اس کیفیت میں انسانی جسم ایک خاص قسم کی رطوبت خارج کرتا ہے جو اس کے پسینے میں شامل ہوجاتی ہے۔ اس رطوبت کی ایک خاص بو ہوتی ہے، جس کا کھوج یہ آلہ فوراً لگا لیتا ہے۔
سائنس دانوں کو توقع ہے کہ انسان کے اندر چھپے ہوئے خوف کاپتہ چلانے والا’ فیئر ڈی ٹیکٹر (Fear Detector) نامی یہ آلہ چیک پوائٹس پر مشکوک افراد کی نشان دہی کے لیے استعمال کیا جاسکے گا ۔
اگرچہ یہ تحقیق اپنے ابتدائی مرحلے پر ہے تاہم ماہرین کو توقع ہے کہ وہ اگلے دو تین سال میں وہ یہ آلہ بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
امریکی سائنس دانوں نے پچھلے سال پہلی بار یہ پتا چلایاتھا کہ خوف کی حالت میں جسم سے جو بو خارج ہوتی ہے، وہ درحقیقت خوف ہی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے خوف ناک فضائی کرتب دکھانے والے 20 افراد کے بغلوں سے خارج ہونے والی رطوبت پر تحقیق کی تھی۔
لندن کی سٹی یونیورسٹی کے سائنس دانوں کو توقع ہے کہ وہ سکیورٹی کا ایسا سینسر سسٹم تیار کرسکتے ہیں جو انسانی جسم میں خوف کی حالت میں پیدا ہونے والی رطوبتوں کا پتہ چلا سکے گا۔
اس تحقیقی ٹیم کی سربراہ پروفیسر ٹونگ ٹن نے ایک جریدے’انجنیئر میگزین‘ کو بتایا کہ سب سے بڑا چیلنج ان مخصوص کیمیائی مادوں کا پتہ چلانا ہے جو انسانی خوف کی نشان دہی کرتے ہیں، خاص طورپر مجرمانہ کارروائیوں سے متعلق خوف کی۔
اس پراجیکٹ میں ان امکانی رکاوٹوں پر غور کیا جائے گا جو مختلف نوعیت کی بو کو مستند طریقے سے شناخت کرنے کی راہ میں حائل ہوتی ہیں، مثلاً خوشبو کے اثرات اور مختلف لوگوں کے درمیان قدرتی فرق وغیرہ۔
پروفیسر ٹن کہتی ہیں کہ اگر ان کی 18 ماہ پر محیط ابتدائی مطالعاتی تحقیق کامیاب رہی تو خوف کا پتہ چلانے والا یہ آلہ اگلے دو سے تین سال میں تیار کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اس بات کا کوئی جواز نظر نہیں آتا کہ سینسر کے اسی طرح کے طریقوں کو وسعت دے کر ہم کسی واقعہ کے دوران یا بعد میں کسی مجرم کا شخصی خاکہ تیار کرنے کے لیے انسانی جسم سے خارج ہونے والی بو کو نسل، عمر یا جنس کے اعتبار سے شناخت نہ کرسکیں۔
نیویارک کی سٹونی بک یونیورسٹی میں ہونے والے امریکی مطالعاتی جائزے میں سائنس دانوں نے فضائی کرتب دکھانے والوں کے بغلوں کے پسینے کو ان کے پہلی فضائی چھلانگ سے ذرا ہی پہلے محفوظ کرلیاتھا۔
تحقیق میں شامل دوسرے رضاکاروں سے، جنہیں تجربے کی اصل نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا، بعد میں ایک مخصوص آلے میں چھیکنے کے لیے کہا گیاتھا۔ اور اسی دوران ان کے دماغ کی سکیننگ کی گئی۔
اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ خوف زدہ فضائی کرتب دکھانے والوں کے پسینے کی بو کے اخراج کے دوران، دماغ کے وہ حصے زیادہ فعال دکھائی دیے جن کا تعلق خوف سے ہوتا ہے۔
لیکن جب ان کے پسینے کے نمونے اس وقت لیے گئے جب وہ زمین پر روزش کررہے تھے تو اس وقت خوف سے متعلق دماغ کے حصوں میں ایسی کوئی سرگرمی دکھائی نہیں دی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس انسانی جسم کے اس قدرتی ردعمل سے دہشت گردی یا جرم کی نیت سے کہیں جانے والوں کو شناخت کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
(انجنیئر میگزین سے ماخوذ)