ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • ہفتہ, 07 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

سائنس و صحت RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

پیراسٹامول کی زیادہ مقدار جگر کے لیے نقصان دہ ہے

شیئر کیجیئے

دردکش دوا پیراسٹال دنیا بھر میں بغیر ڈاکٹری نسخے  کے  کھلے عام فروخت ہورہی ہے۔ اب امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوا کی زیادہ مقدار سے جگر کو شدید نقصان پہنچ سکتاہے۔

پیراسٹامول درد اور بخار میں عام استعمال ہوتی ہے۔ پاکستان میں یہ دوا شیر مارکہ گولی کے نام سے بھی مشہور ہے۔ اس کے علاوہ اس کو  پیناڈول بھی کہا جاتا ہے، جب کہ امریکہ میں اس دوا کو اسیٹومینوفن کہا جاتا ہے اور یہ بازار میں ٹائلے نول (Tylenol)کے نام سے دستیاب ہے۔

ایک امریکی خاتون مارگیلیٹ  نے  آدھے سر کے  درد کے علاج  کے لیے ٹائلے نول کی گولیاں کھائیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے کبھی مقررہ مقدار سے زیادہ دوا نہیں لی لیکن انہیں فوری طورپراپنے جگرکو ٹرانسپلانٹ کرانا پڑا۔

مارگیلٹ ریٹنر کا کہنا ہے کہ وہ کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ ایک ایسی دوا جس سے ان کے سرکا درد اور جسم کے دوسرے درد دور ہوجاتے تھے، انہیں اس حد تک بیمار کردے گی۔

ڈاکٹر رابرٹ براؤن کہتے ہیں کہ عام لوگ یہ دوا اس لیے پسند کرتے ہیں کیونکہ یہ  درد دور کرنے والی دوسری دواؤں کے مقابلے میں بہت مؤثر ہے، یہ معدے پر کوئی اثر نہیں ڈالتی اور عمومی طورپر اس کے زیادہ مضر اثرات بھی نہیں ہوتے۔

پیراسٹامول کی صحیح خوراک کیا ہے؟

 ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوا کا زیادہ مقدار میں استعمال جگر کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس سےموت بھی واقع ہوسکتی ہے۔دوا کے پیکٹ پر یہ ہدایت لکھی ہوتی ہے کہ مریض 500 ملی گرام کی گولی ہر چار سے چھ گھنٹے کے بعد لے سکتا ہے۔

ماہرین کے ایک پینل کا کہنا ہے یہ مقدار بہت زیادہ ہے اور امریکی ادارے ایف ڈی اے کے عہدے داروں کو اس دوا کے ایک ڈاکٹری  نسخے کی زیادہ سے زیادہ حد ایک ہزار گرام مقرر کرنی چاہیئے ۔پینل میں شامل ایک ماہر ڈاکٹر نیل فیربر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نسخے کے بغیر کھلے عام ملنے والی دوا کی مقدار 650 ملی گرام سے زیادہ نہیں ہونی چاہیئے اور ایک مریض کو دن بھر میں اس کی چارہزار ملی گرام سے زیادہ مقدار استعمال نہیں کرنی چاہیئے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم ایسے افراد کی زندگیاں بچانے کی کوشش کررہے ہیں جو غیر شعوری طورپریہ دوا زیادہ مقدار میں استعمال کرتے ہیں۔

تاہم اس سلسلے میں ایک اور  مسئلہ بھی  ہے ۔ڈاکٹری نسخے کے بغیر فروخت ہونے والی دوسوسے زیادہ دواؤں میں پیراسٹامول شامل ہوتی ہے جن میں نیند لانے اور نزلے اور فلو کے علاج کے لیے  استعمال ہونے والی دوائیں بھی شامل ہیں۔ڈاکٹر سینڈرا ویڈر کہتی ہیں کہ خواتین کو دوا کی شیشی کے لیبل پر درج ہدایات پڑھنی چاہیں  اور یہ یقینی بنانا چاہیئے کہ آیا یہ دوا ڈاکٹر کی نگرانی میں استعمال کرنی ہے یا یہ نسخے کے بغیر فروخت ہونے والی دوا ہے۔ اور اس کے اجزا کیا ہیں اور کتنی مقدار میں ہیں۔

ممکن ہے کہ آئندہ چند مہینوں میں ادویات کے کنٹرول سے متعلق ادارہ پیراسٹامول کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے۔پینل کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ امریکی جس کثرت سے اس دوا کا استعمال کرتے ہیں، انہیں حیرت ہے کہ ابھی تک اپنے جگر کو پہنچنے والے نقصان سے بچے ہوئے ہیں۔
 

رائے اور تبصرہ (0)

اپنی رائے ارسال کیجئے

* لازمی



آپ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آپ کے تبصرے کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور ممکن ہے اسے شائع نہ کیا جائے۔ وی او اے آپ کے تبصرے کو دنیا بھر میں نشر کرنے کا حق رکھتا ہے۔ استعمال اور پرائیویسی نوٹس