ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

سائنس و صحت RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

کیمسٹری کا نوبیل انعام ڈی این اے پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کے نام

nobel winners 2009
فوٹو yale

شیئر کیجیئے

اس سال کیمیا کے شعبے میں نوبیل انعام  ڈی این اے  اور زندگی کے درمیان  تعلق پر تحقیق کرنے والے دو امریکی اور ایک اسرائیلی سائنس دان  کو مشترکہ طورپر ملا ہے ۔
 
امریکی سائنس دانوں وینکٹ رامن راما کرشنن اور تھامس سٹیز اور اسرائیلی  ماہر ایڈا یوناتھ کی تحقیق سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ  پروٹین کے مالیکیول کس طرح ایٹمی سطح پر تشکیل پاتے ہیں۔

کیمسٹری کی نوبیل کمیٹی  کے چیئر مین گنروان ہائن کا کہنا ہے کہ ان  کی تحقیق بہت اہمیت رکھتی ہے کیوں کہ  ان تینوں سائنس دانوں نے وہ کام کردکھایا جسے بہت سے سائنس دان ناممکن  سمجھتے تھے، یعنی اس مالیکیولر مشین یعنی رائبوسوم کے تھری ڈی ڈھانچے کا پتا چلانا جو خلیے کے تمام پروٹین مالیکیول بناتا ہے۔

وان ہائن کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایکس رے کرسٹیلاگرافی کی مددسے ان متحرک رائبوسوم کی تصاویر حاصل کر کے  یہ وضاحت کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے کہ رائبوسوم کس طرح پروٹینز بنانے کے لیے امینو ایسڈ ز کا چناؤ کرتے ہیں اور انھیں کس طرح آپس میں جوڑ کر ان سے پروٹین کا مالیکیول تخلیق کرتے ہیں۔

 وہ کہتے ہیں کہ ہر جان دار کے ہر خلیے کے اندر موجود ڈی این اے کے مالیکولز میں زندگی کا نقشہ موجود ہوتا ہے، لیکن یہ  رائبوسوم  ہے جو ان معلومات کو زندگی میں ڈھالتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، ڈی این اے میں یہ ہدایات موجود ہوتی ہیں کہ پروٹین کیسے بنائی جائے۔ رائبوسوم یہ ہدایات پڑھ کر ان کی مدد سے پروٹین تیار کرتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھیے کہ ڈی این اے مکان تعمیر کرنے کا نقشہ ہے، جب کہ رائبوسوم وہ معمار ہے جو اس نقشے کی روشنی میں مکان تعمیر کرتا ہے۔

ان سائنس دانوں کی تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ رائبوسوم کی ساخت کیا ہے اور وہ کس طرح ڈی این اے کا نقشہ پڑھ کر پروٹینیں تیار کرتا ہے۔

پروفیسر وان ہائن کہتے ہیں کہ اس میکانکی عمل کی تفہیم سے علاج معالجے کے لیے نئی راہیں کھل گئی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جراثیمی رائبوسوم کو مختلف جراثیم کش ادویات کی مدد سے ان کو آگے بڑھنے سے پہلے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔اس تحقیق سے حاصل ہونے والے علم کی مدد سے محققین جراثیمی بیماریوں کے خلاف ہماری کبھی نہ ختم ہونے والی لڑائی میں استعمال کرنے کے لیے نئی ادویات تیار کرسکتے ہیں۔

انعام حاصل کرنے والے تینوں سائنس دانوں میں 14 لاکھ ڈالر کی رقم تقسیم ہوگی۔کیمسٹری کا ایوارڈ  2009ءکے نوبیل انعام کے سلسلے کا تیسرا انعام ہے۔ طب کے ایوارڈ پیر کو جبکہ فزکس کے انعامات منگل کو دیے گئے ۔

سائنس اور امن کے لیے نوبیل انعامات 1901ءسے ہر سال دیے جارہے ہیں۔