زیب النسا بنگش اور ہانیہ اسلم پرفارم کرتے ہوئے
پاکستان کے نام کے ساتھ ہی شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کا ذکر چھڑ جاتا ہے، لیکن پاکستان کی لڑکیوں کے پہلے بینڈ کی بھارت میں آمد نے یہ ثابت کردیا کہ وہاں کی جو تصویر پیش کی جارہی ہے وہ درست نہیں ہے۔
پاکستانی گلوکاراؤں زیب النسا بنگش اور ہانیہ اسلم کا بینڈ بھارت کے شہر بینگلور میں اپنے فن کا جادو بکھیر رہا ہے، اور شائقینِ موسیقی سے داد بٹور رہا ہے۔
یہ بینڈ ممبئی اور دوسرے شہروں کا بھی دورہ کرے گا۔ زیب اور ہانیہ نے ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ بھارت پہنچنے پر ان کی اس قدر پذیرائی کی گئی کہ انھیں ملک کے باہر ہونے کا احساس تک نہیں ہو رہا ہے۔
زیب اور ہانیہ فی الوقت لاہور میں مقیم ہیں لیکن ان کا حقیقی وطن پشاور ہے جو ان دنوں طالبان کے سبب سرخیوں میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبہ سرحد میں بحران ضرور ہے لیکن وہاں کی خواتین کام کرتی ہیں اور موسیقی کو پسند کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کا کسی تہذیب سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
پاکستان بھر میں دھوم مچانے والے پاکستان کے پہلے گرل بینڈ کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان میں فن کاروں کے تبادلے کے ذریعے عوام کو قریب کیا جاسکتا ہے۔