شاہ رخ خان ٹائم میگزین کے مطابق دنیا کے 50 بااثر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہیں
’ میرے ساتھ یہ سلوک اس لیے ہوا کہ میرا نام شاہ رخ خان ہے‘
بھارت کی یومِ آزادی کے موقعے پر امریکی شہر شکاگو میں منعقد ایک تقریب میں بطور خصوصی مہمان حصہ لینے کے لیے آنے والے بالی وڈ بادشاہ اداکار شاہ رخ خان کوامریکہ کے نیوآرک ایر پورٹ پر دو گھنٹے تفتیش کے لیے روکنے کی خبر سے پورے بالی وڈ میں زبردست غم و غصہ پھیل گیا ہے، اور سبھی نے یک آواز ہو کر اِس واقعے کی مذمت کی ہے۔
اِس میں کوئی شک نہیں کہ شاہ رخ بھارت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی بے حد مقبول ہیں۔ برطانیہ، فرانس اور ملیشیا کی جانب سے دیے گئے معتبراعزاز شاہ رخ کی مقبولیت کے گواہ ہیں، شاید اسی لیے کنگ خان کے مداحوں کے ساتھ بالی وڈ کی نامور ہستیوں نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
شاہ رخ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں اُن کے ساتھ اِس طرح کا واقعہ پیش آیا ہے اور ان کے ساتھ یہ سلوک اس لیے ہوا کیونکہ ان کا نام شاہ رخ خان ہے۔
اُدھر بھارت میں شاہ رخ کے دوست اور فلم ساز کرن جوہر اِس پورے واقعے سے صدمے میں ہیں۔ کرن نے کہا کہ خان ایک گلوبل فلم اسٹار ہیں اور اِس طرح اُن کے نام کی وجہ سے دو گھنٹےپوچھ تاچھ کرنا بالکل غیر ضروری ہے۔ یہ افسوس ناک بات ہے کہ کسی ایک مذہب کی وجہ سے امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک اتنا زیادہ فکرمند ہے۔
خیال رہے کہ کرن اپنی نئی فلم مائی نیم از خان شاہ رخ کے ساتھ کررہے ہیں اور فلم کی کہانی امریکہ میں مقیم مسلمان شادی شدہ جوڑے کو روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔
شاہ رخ کی دوست اور سپرہٹ فلم ’اوم شانتی اوم‘ کی خالق فرح خان نے کہا کہ اگر مذہب کے نام پر شاہ رخ جیسے اسٹار کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاسکتا ہے تو پھر عام آدمی کا کیا حال ہوگا۔ ٹائم میگزین کی 50 طاقت ور ہستیوں میں شامل شاہ رخ کو نہ پہچاننا انتہائی حیرت ناک بات ہے۔
مشہور ہدایت کار مہیش بھٹ نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔
فلم ڈان میں شاہ رخ کی ہیروئین اور دوست پرینکا چوپڑا نے کہا کی شاہ رخ کے ساتھ ہونے والا یہ واقعہ چونکا دینے والا ہے۔ شاہ رخ ایک بین الاقوامی شخصیت ہیں اور ان کے ساتھ اِس طرح کا برتاؤ نسلی امتیاز کو بڑھاوا دے گا۔
واضح رہے کہ امریکہ میں موجود بھارتی سفارت خانے کی مداخلت کے بعد ہی شاہ رخ خان کو ہوائی اڈے سے باہر جانے کی اجازت دی گئی۔
شاہ رخ پہلے بالی وڈ اداکار نہیں جنہیں امریکی ہوائی اڈے پر پوچھ تاچھ کے لیے روکا گیا ہے۔ ماضی میں سلمان خان، عامر خان، عرفان خان اور ہٹ بالی وڈ فلم نیویارک کے ہدایت کار کبیر خان کو بھی اُن کے مسلمان نام کی وجہ سے پریشانی اٹھانی پڑی ہے۔
کبیر اور عرفان کو بھی ایک سے زائد بار امریکہ کے ہوائی اڈوں پر روک کر سوالات کیے گئے ہیں۔ اِن دونوں بالی وڈ ہستیوں کا کہنا ہے کہ کہ امریکہ سپر پاور ہونے کے باوجود صیح معنوں میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے میں ناکام ہے۔ اور یہ کہ امریکی انٹیلی جنس کسی بھی با عزت خان نام کے مسلمان شخص کو ایئر پورٹ پر روک کر انہیں بے عزت کیوں کرتی ہے جب اُن کے پاس اُس شخص کے تمام سفری دستاویزات کی تفصیل موجود ہوتی ہے۔
گزرے دور کے اداکار فاروق شیخ نے کہا کہ جب بھارت کے سابق صدر اے پی جے عبدالکلام کے ساتھ ایک امریکی ایئرلائنز بھارت میں امتیازی سلوک کرسکتی ہے تو شاہ رخ تو پھرمحض ایک اداکار ہیں۔ اور اُن کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ قابل مذمت ہے۔
بالی وڈ میں شاہ رخ کے حریف کے طور پر دیکھے جانے والے سلمان خان نے کہا کہ کروڑوں مسلمانوں کے ساتھ امریکہ میں اس طرح کا برتاؤ کیا جاتا ہے اور خود اُن کے ساتھ بھی اُن کے مسلم نام کی وجہ سے امریکی ہوائی اڈے پر پوچھ تاچھ ہوچکی ہے۔