Obama and Medvedev in Russia, 2009
سابق کھلاڑیوں اورشائقین کی جانب سےپاکستان کی ٹیم پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اِس بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف سلیکٹر عبد القادر نے الزام لگایا ہے کہ ٹیم میں سفارشی کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی وجہ سے پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ عبد القادر نے کہا کہ آئندہ میچوں میں پاکستان ٹیم کو مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اُن کے الفاظ میں، ‘ جب دوسرا ٹیسٹ میچ شروع ہوگا تو مُرلی دھرن بھی آجائے گا، ملنگا بھی آجائے گا۔ واس بھی ہو سکتا ہے آجائے۔ تو اُن کی طاقت اور بڑھ جائے گی۔ لہٰذا ضرورت اِس بات کی ہے کہ ذہن کو مرکوز کرلیا جائے۔ سینئر کھلاڑیوں کو رب نے جس وجہ سے عزت دی ہوئی ہے، اُن کو یہ بیڑا اُٹھانا ہوگا اور قوم کو یہ تسلی دینی ہوگی کہ ہم اس قابل ہیں کہ ہم دنیا کی ہر ٹیم کو ہر جگہ جیت سکتے ہیں۔’ ایک اور سابق سلیکٹر اقبال قاسم نے کہا کہ، ‘محمد یوسف کے آؤٹ ہونے سے اور سلمان بٹ کے غلط شاٹ کھیلنے سے ٹیم کے اوپر پریشر پڑا اور پھر شعیب ملک کا ایک فیصلہ ہمارے خلاف چلا گیا۔ اُس کے بعد پاکستان دباؤ سے باہر نہ آسکا۔’ ممکن ہے کہ ہم ہر بات پر متفق نہ ہوسکیں لیکن ہم مشاورت اور ایک دوسرے کے لیے احترام کے جذبات رکھ سکتے ہیں جس سے امریکی اور روسی عوام دونوں کو فائدہ ہوگا: صدر اوباما
صدر براک اوباما نے روسیوں پر زور دیا ہے کہ وہ سیکیورٹی اور اقتصادیات سے متعلق اس عہد کے اہم مسائل سے نمٹنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کریں۔ صدر اوباما نے معاشیات سے متعلق ایک تعلیمی ادارے کے گریجویٹس سے اپنے خطاب میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے پر زور دیا۔
صدر اوباما نے ماسکو میں اپنے دن کا آغاز روسی راہنماؤں کے ساتھ مذاکرات سے کیا۔
روس کے موجودہ وزیر اعظم اور سابق صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ، جنہیں تجزیہ کار روس کی سب سے طاقت ور شخصیت قراردیتے ہیں، صدر اوباما کی یہ پہلی ملاقات تھی۔
صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ ہم ہر بات پر متفق نہ ہوسکیں لیکن میرا خیال ہے کہ ہم مشاورت اور ایک دوسرے کے لیے احترام کے جذبات رکھ سکتے ہیں جس سے امریکی اور روسی عوام دونوں کو فائدہ ہوگا۔
اس کے چند گھنٹوں کے بعد صدر اوباما نے اپنی توجہ کا مرکز تبدیل کرتے ہوئے، روسی عوام سے براہ راست بہتر تعلقات قائم کرنے کی بات کی۔
انہوں نے یہ خطاب نیواکنامک سکول کی گریجویشن کی ایک تقریب کے موقع پر کیا۔ یہ تعلیمی ادارہ سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد،آزاد معیشت کے نظریے کی تعلیم کی فراہمی کے خواہش مند امریکیوں اور روسیوں نے قائم کیا تھا۔
صدر اوباما نے گریجویٹس کو بتایا کہ گذشتہ 20 برسوں میں بہت کچھ بدل چکاہے اور انہوں نے اس بارے میں تفصیل سے اپنے خیالات کااظہار کیا ہے امریکہ سرد جنگ کے زمانے کے اپنے سابق حریف کے ساتھ آئندہ کس طرح کے تعلقات دیکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آغاز میں مجھے یہ بات واضح کرنے دیں کہ امریکہ ایک مضبوط، پرامن اور خوش حال روس دیکھنے کا خواہش مند ہے۔ اور ہمارے اس خواہش کی بنیاد روسی عوام کے لیے ہمارا احترام اور ہماری قوموں کے درمیان وہ مشترکہ تاریخ ہے جو مسابقت سے بالاتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرد جنگ کے دور کے یہ پرانا مفروضہ درست نہیں ہیں کہ امریکہ اور روس صرف ایسے حریفوں کی طرح اپنا وجود قائم رکھ سکتے ہیں جو اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے مقابلہ کرتے رہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ میں نے امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات کے از سرنو تعین کے لیے کہا ہے۔ اسے لازمی طورپر کریملن اور وائٹ ہاؤس کے درمیان ایک نئی شروعات سے بھی بڑھ کر ہونا چاہیے۔ یہ ایک اہم بات ہے اور میری آپ کے صدر اور وزیر اعظم سے بہت مفید گفتگو ہوئی ہے۔ امریکی اورروسی عوام کے درمیان،باہمی مفادات کی نشاندہی، مذاکرات کی توسیع اور تعاون کے لیے دیرپا کوششیں جاری رہنی چاہیں جس سے ترقی کی راہ ہموار ہوسکے۔
تاہم صدر اوباما نے واضح کیا کہ مشترکہ سوچ کی تلاش میں وہ ان اصولوں سے ہٹ نہیں سکتے جنہیں وہ ضروری خیال کرتے ہیں۔
انہوں نے انسانی حقوق اور علاقائی خود مختاری جیسے مسائل پر گفتگو کی جن کے باعث ماضی میں روس کے ساتھ کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ جس طرح تمام مملکتوں کو اپنے راہنما چننے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ اسی طرح انہیں اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور اپنی خارجہ پالیسیاں خود تشکیل دینے کا حق ہونا چاہیے۔ روس کے لیے بھی یہ بات اسی طرح درست ہے جیساکہ امریکہ کے لیے۔کسی بھی اسے نظام کے نتیجے میں، جو ان حقوق سے روگردانی کرے، سیاسی افراتفری پیدا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے اس اصول کا اطلاق جارجیا اور یوکرین سمیت تمام ملکوں پر ہونا چاہیئے۔