ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

یورپ

ادب کا نوبیل انعام جرمن ادیبہ ہرٹامیولر نے جیت لیا

شیئر کیجیئے

           
ادب کا نوبیل انعام برائے 2009ء رومانیہ میں پیدا ہونے والی جرمن مصنفہ ہرٹا میولر نے جیت لیا ہے۔ سویڈش اکیڈمی کے سیکرٹری پیٹر انگلنڈ نے سٹاک ہوم میں یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بے دخلی کے مسائل کو بڑی مہارت سےاپنی نثر اورشاعری کا موضوع بنایا ہے۔

میولر کا تعلق جرمنی کی رومانوی نسلی اقلیت سے ہے جسے نکولائی چاؤشسکو کے دور میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ رومانیہ کی کمیونسٹ حکومت نے ان کی تخلیقات پر پابندی لگادی تھی جو وہاں سے اسمگل ہوکر جرمنی پہنچیں اور انہیں وہاں بڑی پذیرائی ملی۔اور پھر 1987ء میں ہرٹامیولر اپنے شوہر کےساتھ ترک وطن کرکے جرمنی چلی گئیں۔

میولرکی تحریروں میں ان مشکلات، بدعنوانی، دباؤ اور اظہار کی آزادی کے لیے ان کی جدوجہد کااظہار ہوتا ہے، جن کا انہیں سامنا کرنا پڑا۔ پیٹر انگلنڈ ان کی تحریروں کو حیرت انگیز قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرچہ نوبیل انعام جیتنے والے تمام مصنفین اعلیٰ خوبیوں کے حامل ہوتے ہیں، لیکن میولر کی تحریریں ایک جانب یہ بہت ہی مخصوص انداز کی مختلف زبان اور دوسری طرف ایسی کہانی کا امتزاج ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ ڈکٹیٹر شپ میں پروان چڑھنے کے دوران کس تجربے سے گذریں اور پھر ایک دوسرے ملک میں ایک اقلیت کی حیثیت سے زندگی گذارنے اوراپنے ہی خاندان میں ایک اجنبی کے طور پر رہنے میں انہیں کن کیفیات کا سامنا کرنا پڑا۔

56 سالہ مصنفہ یہ ایوارڈ پاکر بہت خوش ہیں۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سال کانوبیل ایوارڈ یورپ میں کیمونزم کے زوال کی 20 برسی کی نمائندگی کرتا ہے۔

یورپ گذشتہ تین برس سے مسلسل ادب کا نوبیل انعام جیت رہاہے۔میولر نوبیل انعام حاصل کرنے والی دسویں جرمن شخصیت ہیں۔اور انہیں یہ ایوارڈ جیتنے والی 12 خاتون ہونے کابھی اعزاز حاصل ہے۔

انہیں نوبیل کمیٹی کی جانب سے 14 لاکھ ڈالر نقد بھی ملیں گے۔