ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

یورپ

سکاٹ لینڈ نے لاکربی کے حملہ آور کو رہا کردیا

شیئر کیجیئے

سکاٹ لینڈ نے جیل سے لیبیا کے اُس قریب الموت شخص کو رہا کردیا ہے، جو 1988ء میں لاکربی کی فضا ایک مسافر بردار طیارے کو بم سے تباہ کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔

سکاٹ لینڈ کے وزیرِ انصاف کینی میک آسکل نےجمعرات کے روز ایڈنبرا میں اس رہائى کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے سزا یافتہ حملہ آور اور لیبیا کی انٹیلی جینس کا سابق افسر عبدالباسط المقرحی کینسر کے باعث مرنے کے قریب ہے۔

مقرحی کو رہائى کے فوراً ہی بعد ایمبولینس میں ایک قریبی ہوائى اڈے پر لے جایا گیا، جہاں لیبیا کی فضائى کمپنی، افریقیہ ایرویز کا ایک طیارہ اُسے لے کر لیبیا روانہ ہوگیا۔

مقرحی کی رہائى کے بارے میں کچھ دن سے جاری خیال آرائیوں نے اُن خاندانوں کو برہم کردیا ہے، جن کے عزیز لاکر بی کے حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اُن میں بہت سے لوگ کالجوں کے وہ امریکی طلبا تھے، جو یورپ میں پڑھائى کے بعد واپس امریکہ جارہے تھے۔ جمعرات کے روز وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکہ کو سکاٹ لینڈ کے فیصلے پر گہرا افسوس ہے۔بیان میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

مقرحی کو پین ایم کی پرواز 103 کو بم سے تباہ کرنے کے الزام میں 2001ء میں عمر قید کی سزا سنائى گئى تھی۔ یہ طیارہ 1988ء میں 21 دسمبر کو جنوبی سکاٹ کے مقام لاکربی کے قریب فضا میں ایک دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا تھا۔ طیارے میں سوار سب کے سب 259 لوگ اور نیچے زمین پر مزید11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔