ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

یورپ

عالمی تجارت و ترقی ایک جائزہ

شیئر کیجیئے

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی یاUNCTAD  نے دنیا کی مالیاتی منڈیوں پر زیادہ سخت کنٹرول عائد کرنے پر زور دیا ہے۔  اپنی سالانہ ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ (Trade and Development Report) میں UNCTAD نے قواعد و ضوابط میں حد سے زیادہ نرمی اور خطر ے مول لینے کے رجحان کو دنیا میں مالیاتی بحران کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی کا کہنا ہے کہ دنیا کا مالیاتی بحران مکمل کساد بازاری کی شکل اختیار کر گیا ہے اور اس نے عملی طور پر تمام منڈیوں اور ملکوں کو متاثر کیا ہے۔  اِس بحران سے خاص طور سے ترقی پذیر ملک بہت بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

UNCTAD کے مطابق اس بحران کی وجہ سے غریب ملکوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے میلینیم ڈویلپمنٹ گولز (Millennium Development Goals) پورے کرنا تقریباً ناممکن ہوگا۔  ان اہداف کے تحت دنیا میں 2015ء تک غربت کی شرح نصف ہو جانی چاہیئے۔

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی کے ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ دنیا میں مالیاتی اور اقتصادی بحران کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مالیاتی منڈیوں کو ہر قسم کے ضابطوں سے آزاد کر دیا گیا تھا۔  وہ کہتے ہیں کہ سٹے بازی اور خطرات مول لینے کے رجحان نے اس عمل کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔  دنیا کے ملکوں کی حکومتیں اب یہ اطلاعات دے رہی ہیں کہ ان کی معیشتیں بہتر ہو رہی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ کساد بازاری ختم ہو رہی ہے۔  لیکن UNCTAD کے سکریٹری جنرل  Supachai Panichpakdi کہتے ہیں کہ اقتصادی بحالی کی کونپلیں پھوٹنے کی ان خبروں پر اعتبار کرنے میں محتاط رہنا چاہیئے۔  ابھی جشن منانے کا وقت نہیں آیا ہے ’’UNCTAD  کا خیال یہ ہے کے معیشت میں بہتری کے یہ آثار عارضی ہو سکتے ہیں۔  کساد بازاری اتنی شدید اورمعیشت کے سست ہونے کی رفتار اتنی زیادہ رہی ہے کہ کچھ نہ کچھ بہتری تو آنی ہی تھی۔  لیکن قیمتوں کی سطح، اثاثوں کی قیمتیں، خام مال کی قیمتیں اور پیداوار کی سطح سب میں اتنی شدید کمی آئی ہے کہ جب تک معیشت کے بنیادی عوامل میں ٹھوس مضبوطی نہ آئے، اقتصادی بحالی کے اثرات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا‘‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بحران جو مالیاتی شعبے سے شروع ہوا تھا اب پوری معیشت میں انحطاط کی شکل اختیار کر گیا ہے۔  دنیا کی مجموعی قومی پیداوار یا GDP میں اس سال ڈھائی فیصد سے زیادہ کمی آنے کی توقع ہے اور دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جو اس کے اثرات سے محفوظ رہا ہو۔

رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ملکوں کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً چار فیصد کی کمی ہوگی۔  ترقی پذیر ملکوں میں 2008ء میں مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً ساڑھے پانچ فیصد کی کمی ہوئی جب کہ 2009ء میں ایک فیصد سے زیادہ  کی کمی ہو گی۔  چین اور بھارت جیسے ملک جن کی معیشتیں ترقی کر رہی ہیں ان میں بھی پچھلے برسوں کے مقابلے میں ترقی کی رفتار میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

مالیاتی بحران سے جو مسائل پیدا ہوئے ان کے باوجود ایسا لگتا ہےکہ سٹے بازوں نے اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔  UNCTAD کے سینیئر اکانومسٹ ہینرفلاسبیک(Heiner Flassbeck) کہتے ہیں کہ سٹے بازی کا رجحان پھر پیدا ہو رہا ہے اور اس سے خام اشیاء کی قیمتوں میں تیزی آ رہی ہے۔  سٹے بازی اس امید پر شروع کی جا رہی ہے کہ مارکیٹ کی حالت اچھی ہونے والی ہے۔  وہ کہتے ہیں کہ ’’لیکن ابھی منڈی کی بحالی کی آس کرنا محض خیالی بات ہے۔  ابھی یہ عمل شروع نہیں ہوا ہے۔  سرمایہ کاری میں ابھی کوئی مستقل اورمضبوط نوعیت کا رجحان دیکھنے میں نہیں آیا۔  یہ بات تو ظاہر ہے اور ہم نے یہ بات ہمیشہ کہی ہے کہ حکومت کے اقدامات سے حالات کو بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔ بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں نے جو اقدامات کیے ان کی وجہ سے سود کی شرح کم ہو گئی۔  انھوں نے اپنی پالیسی کو اقتصادی سرگرمیوں میں جان ڈالنے کے لیے استعمال کیا‘‘۔

فلالسبیک کہتے ہیں کہStimulus Plans  یعنی معیشت میں جان ڈالنے کے منصوبوں سے عالمی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملی ہے۔  تاہم UNCTAD کا خیال ہے کہ ابھی ایسی بحالی کی بات کرنا جو خود بخود جاری رہ سکے قبل از وقت ہو گا۔   وہ کہتے ہیں کہ حکومتوں پر قرضوں کا جتنا بڑا بوجھ ہےان کی روشنی میں سب کچھ ٹھیک ہونے کی باتیں شروع کرنا مالیاتی پالیسی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔

عالمی معیشت اب بھی ڈانوں ڈول ہےاورحکومتوں کو اپنی اقتصادی پالیسیوں کے بارے میں انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔UNCTAD   نے پیش گوئ  کی ہے کہ دنیا کی مجموعی پیداوار میں اضافے کی شرح 2010ء میں ایک بار پھر مثبت ہو جائے گی لیکن اضافے کی شرح ایک اعشاریہ چھہ فیصد سے زیادہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔