دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو آٹھ سال سے زیادہ ہوچکے ہیں اور اس کے بہت سے مختلف پہلوسامنے آرہے ہیں، جن میں سے ایک اہم مسئلہ ان فوجیوں کی بحالی کا ہے جو عراق اور افغانستان کی جنگوں میں زخمی ہونے کے بعد کسی معذوری کا شکار ہوگئے ہیں۔ برطانیہ کی ایک تنظیم ہیلپ فار ہیروز ایسے ہی فوجیوں کو معاشرے میں ایک فعال کردار ادا کرنے کے لیے مدد فراہم کررہی ہے۔ اس تنظیم کے بانی برائن اور ایما پیری ہیں، جن کا بیٹا افغان جنگ میں حصہ لے رہا ہے اور برائن خود بھی ایک سابق فوجی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جنگیں یا لوگوں کے زخمی ہونے کو نہیں روک سکتے مگر جو ہم کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہاں جائیں اور سائیکل چلائیں یا پھر پہاڑوں پر چڑھیں یا کسی اور سرگرمی میں حصہ لیں جس سے پیسہ حاصل کیا جا سکے۔
لندن میں ایک اخبار نے ایک اشتہاری مہم کے ذریعے ہیلپ فار ہیروز کی مدد کرنے کی کاوش کی جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
ایما پیری نے ایک معمر فوجی کے بارے میں بتایا کہ ایک اسی سالہ بوڑھے انسان نے جہاز سے چھلانگ لگائی۔ بہت سے لوگوں نے مختلف کرتب دکھائے۔
آسٹریلوی اداکار جیک مین نے بھی اس مہم میں ساتھ دیا۔ یہ امدادی تنظیم اس قسم کی سرگرمیوں سے پیسہ اکٹھا کرکے اپنے بانیوں کے طریقہ ِ کار کے مطابق چند دیگر تنظیموں یا وزیر ِ دفاع کے پروگرام میں ان سپاہیوں کے لیے دیتی ہیں جو واپس وطن آتے ہیں۔ دو سال میں اس تنظیم نے پانچ کروڑ ڈالر سے زیادہ چندہ اکٹھا کیا ہے۔
ان سپاہیوں کو برطانیہ میں تنزانیہ کےماؤنٹ کیلی مانجاروکو سر کرنے کے معرکے کو سرانجام دینے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد زخمی سپاہیوں کی مدد کرنا اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم انہیں سہولیات اور ذہنی سکون مہیا کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے آپ کو کارآمد سمجھیں اور یہ سوچتے ہوئے زندگی میں آگے بڑھیں کہ وہ زندگی کا ایک حسین باب تھا مگر زندگی ابھی جاری ہے اور میں نے اسے اچھے طریقے سے گزارنا ہے۔
عراق اور افغانستان میں لڑی جانے والی جنگیں بڑی حد تک برطانیہ میں لڑی جا رہی ہیں۔ مگر پیریز کا کہنا ہے کہ جنگیں مستقل مزاجی اور غیر سیاسی طریقے سے لڑی جاتی ہیں۔
برائن پیری کا کہنا ہے کہ ہم ان لوگوں کے لیے سب بہترین کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہے کہ سیاستدانوں یا دیگر مختلف لوگوں کو ہمارے طریقہ ِ کار سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ مگر میرے خیال میں یہ شعور اجاگر ہو رہا ہے کہ کسی اچھے کام یعنی ان کی مدد کے لیے یہ طریقہ ِ کار درست ہے۔
پیریز کا کہنا ہے کہ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ کس طرح یہ زخمی سپاہی ہیلپ فار ہیروز کا حصہ بنے ہیں۔ میجر فل پارکر کو بتایا گیا تھا کہ وہ دوبارہ کبھی چل نہیں سکتے۔ مگر وہ اب نہ صرف چل پھر سکتے ہیں بلکہ دیگر کئی سرگرمیوں جیسا کہ کشتی چلانا، پہاڑوں پر چڑھنا اور لندن میراتھن تک میں حصہ لے چکے ہیں۔ اور ان سرگرمیوں سے انہوں نے پیریز کی تنظیم کے لیے 20 لاکھ ڈالر جمع کیے ہیں۔