ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

یورپ

عالمی تپش کانفرنس بے نتیجہ رہی

شیئر کیجیئے


آب و ہوا کی تبدیلی پر اقوام <متحدہ کی کانفرنس جمعے کے روز بنکاک میں ختم ہوگئی۔برطانیہ میں قائم ماحولیات سے متعلق ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ دوہفتوں پر محیط اس کانفرنس کسی پیش رفت میں ناکام رہی ہے۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار انوائرمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ نے کہا ہے کہ صنعتی ممالک اس اہم ترین سوال کا جواب دینے میں ناکام رہے ہیں کہ ترقی پذیر ملکوں میں عالمی تپش کے اثرات کو کس طرح محدود کیا جاسکتا ہے۔

سائمن اینڈر سن ماحولیات سے متعلق اس ادارے کے ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کانفرنس عالمی تپش کے اثرات کو محدود کرنے کے سلسلے میں کوئی بڑا قدم اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ان کا کہناتھا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے اور ترقی پذیر مماک کو آب و ہوا کی تبدیلیوں سے بچانے کے لیے دوہفتوں کے مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ان کا کہنا تھاکہ کانفرنس کے مندوبین اس سلسلے میں ٹھوس تجاویز سامنے نہیں لاسکے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں یقینی طورپر ٹیکنالوجی کی منتقلی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

آب وہوا کی تبدیلی سے متعلق ٹیکنالوجی کا تعلق ایسے پشتوں کی تعمیر سے ہے جو ساحلی علاقوں کو ڈوبنے سے بچا سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سائنسی علم کا کس طرح تبادلہ کیا جائے اور اسے ایک دوسرے کے مفاد میں استعمال کیا جائے۔

اینڈر سن کہتے ہیں کہ بہت سے افریقی ملک آب وہوا کی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی اپنے منصوبے پیش کرچکے ہیں لیکن وسائل اور ٹیکنالوجی نہ ہونے کی وجہ سے وہ ان پر عمل درآمد کرنے سے قاصر ہیں۔

عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک گرین ہاؤس گیسوں کے صرف ایک تہائی حصے کے اخراج کے ذمے دار ہیں لیکن غیر منصفانہ طورپر انہیں آب و ہوا کی تبدیلیوں کے 80 فی صد اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والا علاقہ زیرِ صحارا افریقہ ہے۔اینڈر سن کہتے ہیں کہ آب وہوا کی تبدیلیوں کے باعث ترقی پذیر ملکوں میں بارشوں کے معمولات اور درجہٴ حرارت میں تبدیلی کے باعث لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی تپش کے نتیجے میں مشرقی افریقہ کو گذشتہ پانچ برس سے خشک سالی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ خشک سالی کے باعث دو کروڑ 30 لاکھ افراد بھوک کاشکار ہوسکتے ہیں۔

اینڈرسن کہتے ہیں کہ بنکاک کانفرنس میں کوئی حقیقی پیش رفت نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دو ماہ بعد جب عالمی راہنما اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام ایک اہم سربراہ کانفرنس میں کوپن ہیگن میں ملاقات کریں گے تو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ان کے پاس کوئی بنیاد موجود نہیں ہوگی۔

افریقہ، ایتھوپیا کے وزیر اعظم میلس زیناوی کی سربراہی میں ایک وفد کوپن ہیگن بھیج رہاہے۔افریقی ممالک عالمی تپش کے اثرات کا نشانہ بننے کے بدلے میں اربوں ڈالر ملنے کی توقع کررہے ہیں۔