ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

یورپ

جرمنی: پارلیمانی انتخابات میں چانسلر آنگلا مرخیل کے اتحاد کی جیت کا امکان

شیئر کیجیئے


جرمنی کی چانسلر آنگلا مرخیل نے ملک کے پارلیمانی  انتخابات میں دوسری مدت کے لیے کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنے  مرکزی بائیں بازو کے اتحاد کی جیت کا دعویٰ کیا ہے۔ 

مرخیل اتوار کے روز  پولنگ ختم ہونے کے آدھ گھنٹے سے کچھ ہی بعداپنے حامیوں سے خطاب کررہی تھیں۔ ایگزٹ سروے  کے نتائج یہ  ظاہر کررہے ہیں کہ قدامت پسند وں کو اپنی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ تعداد میں ووٹ حاصل ہوجائیں گے۔

جرمنی میں ووٹ ڈال کرآنے والوں کے ابتدائی جائزوں سے ظاہر ہوا ہے کہ چانسلر آنگلا مرخیل کی جماعت اتنے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی کہ وہ  اپنے ترجیحی اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت  بناسکے۔

اتوار کے روز پولنگ ختم ہونے کے  چند منٹوں کے بعد، زی ڈی ایف اور اے آرڈی ٹیلی ویژن  کی طرف سے نشر کردہ جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ چانسلر آنگلا مرخیل کا قدامت پسند بلاک اور فری ڈیموکریٹس 48 فی صد ووٹ حاصل کررہے ہیں۔  اگر قدامت پسندوں کو ملنے والے ووٹوں کی یہ سطح برقرار رہتی ہے تو  وہ دوسری تین اہم پارٹیوں کے مجموعی ووٹوں پرمعمولی سبقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور دوسری مدت کے لیے مرخیل کی حکومت کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

ابتدائی جائزے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سینٹرلیفٹ سوشل ڈیموکریٹس کو ملنے والے ووٹ 24 فی صد سے قدرے ہی کم ہیں اور بائیں بازو کی جماعت کو 13 فی صد سے قدرے کم ووٹ  مل رہے ہیں۔  جب کہ جائزے کے مطابق  ماحول دوست گرین پارٹی کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد ساڑھے دس فی صد کے لگ بھگ  ہے۔

اپنی پوری انتخابی مہم کے دوران  مرخیل یہ کہتی رہی ہیں کہ نئے اتحاد کئی عشروں میں ملک کی بدترین اقتصادی صورت حال سے نمنٹے کے لیے سخت جدوجہد کرنا ہوگی۔ 

ان کے اہم حریف فرینک والٹر سٹین میئر کا کہنا ہے کہ  قدامت پسندوں کی جیت  کا فائدہ دولت مند طبقے کو ہوگا۔