منگل کے روز فرانس کی ایک عدالت نے چرچ آف سائنٹالوجی پر جعل سازی کی بنا پر جرمانہ عائد کیا لیکن اس نےادارے پر مکمل پابندی عائد نہیں کی جس کی استغاثہ نے درخواست کی تھی۔
چرچ کے فرانسیسی دفتر اور پیرس میں اس کی بک شاپ کو 1990ءکی دہائی میں اپنے پیروکاروں سے جعل سازی کے ذریعے پیسے بٹورنے کی بنا پر نولاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ادارےکے رہنماؤں کو دس ماہ سے دو سال تک کی قیدکی سزائیں بھی سنائیں جن پر بعد میں عمل درآمد کیا جائے گا۔جب کہ دودوسرے رہنماؤں کو جرمانے ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
یہ مقدمہ چرچ کے دو سابق ارکان نے دائر کیا تھا جن میں سے ایک نے یہ شہادت دی تھی کہ چرچ نے اسے لگ بھگ 30 ہزار ڈالر کی کتابیں، نصابی کتابیں اور دوسرے مخصوص چیزیں خریدنے پر مجبور کیا تھا۔
عدالت نے چرچ بند کرنے کا حکم اس لیے نہیں دیا کیونکہ نئے قانون کے تحت عدالت جعل سازی کے جرم میں سزاپانے والے اداروں پر پابندی عائد نہیں کرسکتی۔
سائنٹالوجی کے ایک عہدے دار ایرک روکس کا کہنا ہے کہ چرچ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔
چرچ آف سائنٹالوجی سائنس کے فکشن رائٹر ایل ران ہبرڈ نے 1945 ء لاس اینجلس میں قائم کیا تھا۔امریکہ میں یہ سرکاری طورپر تسلیم شدہ ایک مذہب ہے اوراس کے دنیا بھر میں ایک کروڑ 20 لاکھ پیروکار ہیں۔