سینئر یورپی قانون ساز ، ہائڈی ہوتالا نےاقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ جولائی میں چین کے شمال مغربی شِن چیانگ علاقے میں خوفناک ہنگاموں کی چھان بین کرائی جائے۔
ہائڈی ہوتالا انسانی حقوق کے بارے میں یورپی پارلیمان کی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔
اُنھوں نے مطابلہ کیا کہ فرقہ وارانہ ہنگامے، جِن میں تقریباٍ200افراد ہلاک ہوئے ، اُس میں انسانی حقوق کی انحرافی کے الزامات کی آزادانہ تفتیش ہونی چاہیئے۔
ہوتالا نے اِس بات کا اعلان جلا وطن ایغور کارکن ربیعہ قدیر کی طرف سے منگل کے روز پارلیمانی کمیٹی سے خطاب کے دوران کیا۔
قدیر نے کمیٹی کو بتایا کہ ایغور لوگوں کو خود ارادی کا حق حاصل ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہنگاموں کے نتیجے میں دس ہزار ایغور غائب ہو چکے ہیں۔
چین نے شِن چیانگ کی ا یغور مسلم آبادی میں ہنگامہ آرائی کروانے کا الزام قدیر اور دیگر بیرونی طاقتوں پرعائد کیا ہے۔ لیکن مسِ قدیر الزام کو مسترد کرتی ہیں۔
شِن چیانگ کےا یغور اور ہان چینیوں کے درمیان پانچ جولائی کو لڑائی چھڑ گئی جو کئی دِنوں تک جاری رہی۔ یہ کئی عشروں میں چین میں ہونے والا فرقہ وارانہ تشدد کا ہول ناک واقعہ تھا۔