برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے عالمی راہنماؤں پر اس سال کے آخر میں آب و ہوا پر ڈنمار ک میں ہونے والےایک اہم سربراہ اجلاس میں شرکت پر زور دیا ہے۔
مسٹر براؤن پیر کے روز لندن میں سب سے زیادہ کاربن گیس پیدا کرنے والے دنیا کے 17 ممالک کے وفود سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی راہنماؤں کی جانب سے اس سال سات دسمبر کو کوپن ہیگن میں ہونے والی کانفرنس میں عدم شرکت کے باعث عالمی ماحول کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ابھی تک صرف چند ملکوں کے سربراہوں نے اقوام متحدہ کے تحت ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔
کوپن ہیگن کانفرنس کے مقاصد میں آب وہوا کی تبدیلیوں سے متعلق 1997ء کے کیوٹو پروٹوکول کی جگہ نئے معاہدے کی تیاری ہے جو 2012 ءمیں ختم ہوجائے گا۔
لندن میں مذکرات کار غریب ممالک کی مدد کے لیے فنڈنگ کے فارمولے کے لیے کوشش کررہے ہیں، جس کی عدم موجودگی سے آلودگی کی روک تھام کے لمبی مدت کے اہداف حاصل نہیں کیے جاسکیں گے۔