ایک شائع شدہ رپورٹ کے مطابق ،2007 میں لیبیا اور پیٹرولیم کی بہت بڑی برطانوی کمپنی بی پی کے درمیا ن تیل کی تلاش کے ایک بڑے سودے پر مذاکرات میں تعطّل پڑ جانے کے بعد، برطانیہ نے لاکر بی کے حملہ آور کی لیبیا کو واپسی کی راہ کھول دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، وزیرِ انصاف جیک سٹرا نے دسمبر 2007 میں قیدیوں کے تبادلے کے ایک سمجھوتے سے عبد الباسط المقرحی کے معاملے کو خارج رکھنے کا مطالبہ ترک کردیا تھا۔ اور اس کے کچھ ہی ہفتے بعد دونوں فریقوں نے لیبیا میں تیل کی تلاش کے ممکنہ طور پر تقریباّ 25 ارب ڈالر مالیت کے سودے کی توثیق کردی تھی۔
اخبار نے کہا ہے کہ اُس کی رپورٹ کی بنیاد ، سٹرا اور سکاٹ لینڈ کے وزیرِ انصاف کینی میک آسکل کے درمیان وہ خط وکتابت ہے، جسے لِیک کردیا گیا ہے۔ ایک مبیّنہ خط میں سٹرا نے قیدیوں کے تبادلے کے فیصلے کو“ برطانوی سلطنت کے بہت بھاری مفادات” کے مطابق کہا ہے۔
پچھلے ہفتے برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے اصرار کے ساتھ کہا تھا کہ مقرحی کو رہا کرنے کے فیصلے میں اُن کی حکومت کا کوئى عمل دخل نہیں تھا۔مقرحی کینسر کی وجہ سے مرنے کے قریب ہے اور سکاٹ لینڈ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پراُسے واپس اُس کے وطن بھیج دیا تھا۔
بی پی نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ تیل کے سودے کی توثیق میں کوئى سیاسی عوامل کارفرما تھے۔