ایک شائع شدہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں ایک جرمن کمانڈر نے ہوسکتاہے کہ اُس وقت نیٹو کے ضوابط کی خلاف ورزی کی ہو جب اُس نے صوبہ قندوز میں صرف ایک ذریعے سے ملنے والی انٹیلی جنس کے بنیاد پر اُس فضائی حملے کا حکم دیا تھا، جس میں متعدد عام شہری مارے گئے تھے۔
اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ وہ فضائی حملہ نیٹو کے اُن ضابطوں کے خلاف تھا، جن کا مقصد عام شہریوں کے جانی نقصان کو کم کرنا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اُن ضوابط میں صرف ایک ذریعے سے ملی ہوئی اطلاع کی بنیاد پر بمباری کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
اخبار نے کہا ہے کہ جرمن کمانڈر کو ایک امریکی جیٹ لڑاکا طیارے سے ایک ایسا وِڈیو موصول ہوا تھا، جس میں پیٹرول کے دو ٹینکر ٹرکوں کے گرد، جو مبیّنہ طور پر طالبان کے قبضے میں تھے، لوگوں کے دھندلے سائے دکھائی دیتے تھے۔ لیکن ظاہرہے کہ تصویر اتنی واضح نہیں تھی کہ معلوم ہوسکے کہ وہ لوگ ہتھیار سنبھالے ہوئے تھے یا نہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے کہا ہے کہ ایک افغان مخبر نے اصرار کے ساتھ کہا تھا کہ وہاں موجود ہر شخص باغی ہے۔ اور جرمن کمانڈرر نے اسی اندازے کی بنیاد پر دونوں ٹرکوں ایک ایک سٹلائیٹ گائڈڈ بم گرانے کا حکم دے دیا۔
اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، نیٹو کے تفتیش کاروں کی ایک ٹیم کا اندازہ ہے کہ اُس بمباری میں تقریباً 125 لوگ ہلاک ہوئے تھے اور اُن میں کم سے کم 24 باغی نہیں تھے۔مقامی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں متعدد عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔