ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

یورپ

یورپی ممالک مزید فوجی افغانستان بھیجیں: راسموسن

شیئر کیجیئے


نیٹو کے سربراہ راسموسن نے  یورپین ممالک پر زور دیا ہے  کہ وہ افغان مشن کے لیے مزید مدد کریں۔ انہوں نے اس بات کا تقاضا برسلز میں ایسے وقت میں کیا ہے  جب اوباما انتظامیہ افغانستان میں نیٹو کمانڈر جنرل میک کرسٹل کی جانب سے افغانستان میں ہزاروں مزید فوجیوں کی تعیناتی پر غور کر رہی ہے۔

اس وقت افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ امکان ہے کہ جنرل مک کرسٹل افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ سے چالیس ہزار کے قریب مزید فوجیوں کا مطالبہ کریں گے۔ گذشتہ آٹھ برسوں میں 2009 غیر ملکی فوجوں کے لیے بہت ہی برا سال ثابت ہوا۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل  راسموسن کا یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسی بدل رہا ہے۔

نیٹو چیف کا کہنا ہے کہ اتحادی ممالک کی جانب سے مزید فوجی دستے تعینات نہ کرنے کی صورت میں ٹرانس ایٹلانک تعلقات اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ امریکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے مشکل وقت میں یہ اتحادی افواج اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہو کر اسکا کتنا ساتھ دیں گی۔

بہت سے یورپی ممالک افغانستان میں اپنے فوجی دستے تعینات کرنے کے معاملے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ اور اس حوالے سے جلد کوئی نتیجہ نکلتا دکھائی نہیں دے رہا۔

جبکہ راسموسن  اور نیٹو افواج افغانستان کے حوالے مزید فوجی دستوں کی تعیناتی کے حوالے سے پر عزم ہونے کے ساتھ ساتھ افغان سیکورٹی فورسز کی مزید  ٹریننگ کے لیے بھی خواہاں ہیں۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل  کا کہنا ہے کہ یہ بات تعجب انگیز ہے کہ یورپی یونین نے ابھی تک پولیس مشن کو افغانستان  میں تعینات نہیں کیا۔