امریکی صدر براک اوباما نے منگل کے روز پورے ملک کے سکول کے بچوں سے کہا کہ سخت محنت کریں اور پڑھائی پر دھیان دیں۔ اُن کی تقریر پر کئی قدامت پسندوں کی طرف سے سخت نکتہ چینی سامنے آئی ہے۔
واشنگٹن کے قریب ایک ہائی سکول میں مسٹر اوباما کی تقریر کو وائٹ ہاؤس ویب سائیٹ اور کیبل ٹیلی ویژن پر براہِ راست نشر کیا گیا۔بہت سے طالب علموں نے اپنی کلاسوں میں تقریر براہِ راست دیکھی۔
صدر اوباما نے طالب علموں پر زور دیا کہ تعلیم کے حصول میں ذمے داری کا مظاہرہ کریں اور چیلجوںں اور ناکامیوں کو تدریس کے آڑے نہ آنے دیں۔
قدامت پسندوں نے انتظامیہ پرسکولوں میں حکومت کی دخل اندازی، اور صدر کی طرف سے بچوں پر اپنے خیالات مسلط کرنے یا اپنے داخلی ایجنڈا کو ٹھونسنے کا الزام عائد کیا ہے۔
کچھ سکولوں نے تقریب کو نہ دکھانے کا فیصلہ کیا، جب کہ کچھ والدین نے بچوں کو تقریر کے بائاں ٹ کی ترغیب دی۔ مظاہرین کا ایک چھوٹا سا گروہ اس سکول کے باہر اکٹھا ہوا جہاں صدر تقریر کر رہے تھے۔
وائٹ ہاؤس نے اس تقریر پر کیے جانے والی تنقید کو بے وقوفی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر اوباما صرف طالب علموں کو ترغیب دینا چاہتے ہیں۔
صدر اوباما نے بن باپ کے بڑا ہونے کی اپنی ذاتی جدوجہد کا ذکر کیا اور کہا کہ ترغیب دینے کی خاطر اکثر اُن کی والدہ اُن کی ہمت بندھایا کرتی تھیں۔ اُنھوں نے طالب عملوں سے کہا کہ وہ اپنے تعلیمی اہداف طے کرلیں اور کبھی اُس سے پیچھے نہ ہٹیں۔
اُن کی تقریر کا متن پیر کے روز جاری ہوا تھا۔ اُس سے پہلے کئی قدامت پسندوں کو خدشہ تھا کہ بات سیاسی نوعیت کی ہوگی۔ یہ نکتہ چینی کسی حد تک محکمہٴ تعلیم کے مجوزہ سبق کے منصوبے پر مرکوز تھی جِس میں طالبِ علموں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو خط لکھیں جِس میں یہ بیان کریں کہ وہ کس طرح سے صدر کی مدد کر سکتے ہیں۔ دیے گئے کام میں نیا پن یہ لایا گیا کہ طالب علموں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے طویل مدتی اور مختصر مدت کے تعلیمی اہداف کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔
لیکن طالبِ عملوں سے کی گئی یہ پہلی صدارتی تقریر نہیں تھی جِس پر نکتہ چینی کی گئی ہو۔ سنہ 1991ء میں ڈیموکریٹس کواُس وقت مایوسی ہوئی تھی جب ری پبلیکن پارٹی کے اُس وقت کے صدر جارج ایچ ڈبلیو بُش نے طالب علموں سے ٹیلی ویژن پر براہِ راست خطاب کیا تھا۔ ناقدین نے اُسے ٹیکس دہندگان کے خرچے پر مہنگی سیاسی تشہیرحاصل کرنا قرار دیا تھا۔