ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

تعلیم و نوجوان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

آسٹریلیا میں بھارتی طلبا پر حملے: بالی وڈ فلم بنائے گا

شیئر کیجیئے

بالی وڈ میں اصل زندگی کے واقعات سے متاثر ہوکر فلمیں بنانا عام بات ہے۔  اِسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بالی وڈ فلم ساز موہت سوری نے پچھلے کچھ ہفتوں سے  آسٹریلیا میں بھارتی نژاد کے طلبا  پر ہورہے نسل پرستانہ حملوں پر فلم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

موہت نے اردو وی او اے ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے اِس خبر کی تصدیق کی ہے۔  ماضی میں وہ لمحے،  کل یگ، وہ لمحے اور آوارہ پن جیسی ہٹ فلم بنا چکےموہت نےاپنی نئی فلم بنانے کا منصوبہ نسل پرستی کے واقعات کے سبب جسمانی اور ذہنی اذیتیں برداشت کرنے والے  آسٹریلیا میں مقیم اپنے دوست کی زندگی سے متاثر ہوکر بنایا ہے۔

اِس فلم کی اِسکرپٹ کے لیے موہت نے آسٹریلیا میں مقیم بھارتی نژاد کے لوگوں کی زندگی پر تحقیق شروع کردی ہے۔  فی الحال موہت ِاس سال کے آخر میں اپنی  نئی فلم کی عکس بندی آسٹریلیا میں کرنے کے لیے وہاں کے حکام سے فلم بندی کی اجازت لینے کے کاغذی  کاموں میں مصروف ہیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں بالی وڈ فلم انڈسٹری کی فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا ایمپلائیز ایسوسی ایشن نےآسٹریلیا میں بھارتی طلبا  پرلگاتار حملوں کے خلاف ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے یہ فرمان جاری کیا ہے کہ کسی بھی ہندی فلم کی عکس بندی آسٹریلیا میں نہیں کی جائے گی۔

ایسے میں موہت کے آسٹریلیا جاکر اپنی فلم کی عکس بندی کرنے کے اعلان نے بالی وڈ کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔  تاہم موہت کے مطابق کسی ملک پر پابندی لگانا مسئلے کا حل نہیں ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ اگر مجھے بھارتیوں پر ہورہے حملوں کی وجہ یاپھر حملوں کی وجوہات پر فلم بنانی ہے تو یہ لازمی ہے کہ فلم کی عکس بندی ممبئی کی بجائے آسٹریلیا میں کی جائے۔

ماضی میں دل چاہتاہے، سلانمستے، ہےبےبی اور جانشین جیسی کامیاب فلموں کی عکس بندی آسٹریلیا میں ہی ہوئی ہے۔  بقول موہت اِس سال میں اب تک 70 بھارتی طلباء پر حملے ہوچکے ہیں۔  

ایک سروے کےمطابق 95 ہزار بھارتی طالب علم آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔  ایسے میں شاید موہت کی یہ فلم اِن ہزاروں بھارتیوں کے دلوں اور گھروں میں روشنی بکھیر دے۔