بادبانی کشتی
نیدر لینڈز کی ایک عدالت نے ایک 13 سالہ لڑکی کے لیے ایک سرپرست مقرر کردیا ہے جو بادبانی کشتی میں دنیا کے گرد تنہا سفر کر نے والی سب سے کم عمر سیاح بننا چاہتی ہے۔
لارا ڈیکر کے والد نے اپنی بیٹی کو اس خطر ناک مہم جوئى کی اجازت دے دی تھی۔ لیکن کچھ سماجی تنظیمیں اس دعوے کے ساتھ اس معاملے کو عدالت میں لے گئیں کہ والدین کو اپنی بیٹی کی فلاح و بہبود سے دلچسپی نہیں ہے۔ تاہم ڈیکر کواپنے نئے سر پرست کی اجازت سے پہلے دو ماہ تک اور انتظار کرنا ہوگا، اور اس دوران بچوں کی نفسیات کا ایک ماہر اس خطرناک مہم جوئی کے لیے ڈیکر کی دماغی اور نفسیاتی صلاحیتوں کا اندازہ لگائے گا۔
سماجی کارکن اب تک یہ اصرار کرتے رہے ہیں تنہا اتنے بڑے سفر کے لیے اُس کی عمر بہت کم ہے۔ نفسیاتی معائنے کے دوران لارا بدستور اپنے والد کے ساتھ رہے گی۔
حال ہی میں ایک 17سالہ برطانوی لڑکے مائیک پرہم کا نام دنیا میں ایک ایسے سب سے کم عمر ملاح کے طور گِنیس بُک آف ورلڈ ریکارڈز میں آگیا ہے جنھوں نے کسی مدد کے بغیر تنہا کشتی میں دنیا کا چکرلگایا تھا۔
مائیک پرہم نے یہ چکر اس ماہ کے شروع میں نو مہینوں میں مکمل کیا تھا۔ اس نے یہ اعزاز ایک دوسرے 17 سالہ امریکی زَیک سنڈرلیند کو مات دے کر حاصل کیا ہے، جس نے جولائى میں اسی سفر کو 13مہینوں میں مکمل کیا تھا۔