یورنیورسٹی کے شعبہ فلکیات کے پروفیسر الفریڈ مک ایوین کہتے ہیں کہ چٹانی پرتوں سے بنا یہ بلاک تعمیراتی انداز میں مستطیل شکل میں کٹا ہوا ہے۔اس کی سطحیں ہموار ہیں۔
یلڈرن نے امریکی ٹی وی نیٹ ورک سی سپین (C-Span)سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہمیں خلائی تحقیق پر زیادہ فنڈز مختص کرنے چاہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مریخ کے چاندفوبس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جہاں ایک ٹھوس تعمیراتی بلاک دیکھا گیا ہے۔
ایری زونا یونیورسٹی کے ماہرین کی خصوصی آلات سے مریخ کی اتاری گئی ایک تصویر نے ماہرین کے ذہنوں میں ان قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے کہ وہاں کبھی کوئی ذہین مخلوق موجود تھی یا اب بھی اپنا وجود رکھتی ہے۔ یہ تصویر پتھر یا کسی ٹھوس چیز کے تعمیراتی بلاک سے ملتی جلتی ہے۔ تقریباً اسی شکل کے بلاک لگ بھگ چار ہزار سال قبل مصریوں نے اہرام کی تعمیر میں استعمال کیے تھے۔
گذشتہ کئی برسوں سے مریخ سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس سیارے کے کچھ حصوں میں پانی کسی بھی اندازمیں موجود ہے جس سے وہاں زندگی کی امکانات زیادہ ہیں۔
یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے مریخ کی سطح پر ٹھوس بلاک کی تصویر ا س طاقت ور کیمرے کی مدد سے حاصل کی ہے جوسیارے کے گرد چگر لگانے والے سیٹلائٹ میں نصب ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مریخ پر اس طرح کے ٹھوس بلاک کے ملنے پر چونکنا ایک قدرتی بات ہے۔
ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی یہ تصویر یونیورسٹی کے ایک ہائی ریزولوشن تصویروں کے پراجیکٹ کے تحت اتاری گئی تھی۔ یہ کیمرہ مریخ کے مدار کے گرد کردش کرنے والے تحقیقاتی سیٹلائٹ کی حاصل کردہ تصویروں کو کہیں زیادہ نمایاں کرکے پیش کرتا ہے۔
یورنیورسٹی کے شعبہ فلکیات کے پروفیسر الفریڈ میک ایوین، جو اس پراجیکٹ کے سربراہ ہیں، کہتے ہیں کہ چٹانی پرتوں سے بنا یہ بلاک تعمیراتی انداز میں مستطیل شکل میں کٹا ہوا ہے۔ اس کی سطحیں ہموار ہیں۔ امکانی طورپر وہ موسمیاتی تغیر کے باعث اس چٹان سے الگ ہوا ہے جس سے وہ جڑا ہوا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی خلاف معمول بات نہیں ہے۔ مریخ پر مستطیل شکل کے بہت سے بلاکس موجود ہیں۔ لیکن مریخ میں یہ ایک معمول کی بات ہے۔
چاند پر اترنے والے خلاباز بز ایلڈرن نے حال ہی میں یہ کہہ کر چونکا دیا تھا کہ ایک اسی طرح کا بلاک مریخ کے چاند فوبس پر بھی دیکھا گیا ہے۔
ایلڈرن نے امریکی ٹی وی نیٹ ورک سی سپین (C-Span)سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہمیں خلائی تحقیق پر زیادہ فنڈز مختص کرنے چاہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مریخ کے چاند فوبس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جہاں ایک ٹھوس تعمیراتی بلاک دیکھا گیا ہے۔
آلو سے متشابہ یہ چھوٹا چاند مریخ کے گرد ہر سات گھنٹے میں ایک چکر مکمل کرتا ہے۔
ایلڈرن کہتے ہیں کہ جب بلاک وہاں پر نظر آیا تو سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ وہ وہاں کیسے آیا ہے۔ اسے کس نے وہاں رکھا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اسے خدا نے وہاں رکھا ہے۔ یعنی وہ قدرتی طورپر وہاں موجود ہے۔
تاہم ایسے سائنس دان بھی ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں، جنہیں توقع ہے کہ اس نظام شمسی میں کہیں نہ کہیں زندگی اپنی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ مریخ پر پانی کی موجودگی کے آثار اور تعمیراتی بلاکس کی تصویروں سے ان کے اس قیاس کو مزید تقویت ملی ہے کہ وہاں کسی ذہین مخلوق کے وجود کے امکان ہوسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تعمیراتی شکل کے ٹھوس بلاکس کی تصویریں مریخ سرکرنے کی کوششوں میں مزید تیزی لاسکتی ہیں۔