چین کے دارالحکومت بیجنگ میں حکمران جماعت پیپلز کانگریس کی ڈپٹی وو چنگ اپنی ساتویں ٹرم پوری کر رہی ہیں۔ چین ایک ایسا ملک ہے جہاں ذرائعِ ابلاغ پر پابندی کے علاوہ انسانی حقوق کے حوالے سے خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ ووچنگ چینی آئین کی دستاویز اپنے ساتھ رکھتی ہیں اور وہ حکومت پر کھلی تنقید کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتیں۔
بہتر سالہ ووچنگ گوکہ ریٹائرڈ یونیورسٹی پروفیسر ہیں مگر وہ ابھی بھی جانتی ہیں کہ کلاس کو کس طرح قابو کیا جاتا ہے۔ اب وہ بیجنگ میں دیہی خواتین کے لیے قائم کیے جانے والے ایک سکول میں ان خواتین کو تربیت دے رہی ہیں جو اپنا بزنس شروع کرنا چاہتی ہیں۔
اس کلاس میں 48 خواتین ہیں جو چین کے بارہ مختلف صوبوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان میں سے سے آٹھ خواتین کو پہلے سے کاروبار کرنے کا تجربہ ہے۔
وو چنگ کا یہ سکول کھولنے کا مقصد خواتین کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ دیہات کی خواتین کو کاروبار کی سمجھ بوجھ بھی دینا ہے۔ انکا خیال ہے کہ اس طرح وہ دیہات کی خواتین کی مدد کر سکتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ہمیں دیہات میں رہنے والی خواتین کو بھی شہری خواتین کی طرح تعلیم مہیا کرنی چاہیے۔ تاکہ ان کے لیے بھی شہری خواتین کی طرح آسانیاں پیدا ہو سکیں۔
ووچنگ کا پڑھانے کا طریقہ ِ کار قدرے مختلف ہے۔ ان کے تدریسی طریقے میں مختلف موضوعات پر گپ شپ شامل ہے اور بعض اوقات وہ لیکچرز کے ساتھ ساتھ انہیں چینی دستور کی رو سے انکے حقوق سے بھی آگاہ کرتی رہتی ہیں۔
ووچنگ کہتی ہیں کہ اگر کوئی میری نگرانی کرتا ہے تب میں پڑھاتے ہوئے تھوڑا چوکنا رہتی ہوں۔ اور ایک عہدے دار کو ایسے ہی کرنا چاہیے۔ مگر چین میں زیادہ تر لوگ اپنی آنکھیں بند رکھتے ہیں اسی لیے حکومت جو چاہتی ہے کرتی ہے۔
ووچنگ گذشتہ پچیس برس سے پیپلز ڈپٹی ہیں۔ 1989 میں ایک طلبہ تنظیم کی مدد کرنے کی پاداش میں وہ تقریبا اپنی سیٹ گنوا بیٹھی تھیں۔ انکی پارٹی کے لیڈر کی جانب سے انہیں الیکشن میں دوبارہ نہ کھڑے ہونے کی تنبہہ کی گئی اور انہیں ووٹرز نے اپنے ووٹ کی طاقت سے پیپلز ڈپٹی بنایا۔
وہ اب بھی بیجنگ کی فارن اسٹڈیز یونیورسٹی میں ہر منگل کو کلاس لیتی ہیں، یہاں وہ گذشتہ چالیس برس سے انگریزی پڑھا رہی ہیں۔
ووچنگ کے پاس لوگ اپنے مسائل لے کر آتے ہیں۔ جبکہ وہ انہیں مزید ثبوت لانے کے ساتھ ساتھ خود بھی تفتیش کرنے کی یقین دہانی کراتی ہیں۔
چین میں اتنے کھلے عام بولنا اتنا آسان نہیں۔ ایک مرتبہ حکومت نے ووچنگ کو تین برس تک اس وجہ سے چین سے بیٹھنے نہیں آنے دیا تھا کہ انہوں نے بیرون ِ ملک چین میں انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی بات کی تھی۔
وہ اپنی ہمت و حوصلے کے لیے اپنی والدہ کی شکر گزار ہیں جو ایک مشہورادیبہ تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میری والدہ نے مجھے ہمیشہ یہ درس دیا کہ میں پہلے انسان ہوں اور بعد میں عورت۔
اور ووچنگ آج بھی سبھی کو انسانیت کا درس دیتی دکھائی دیتی ہیں۔