امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں ایک ادارہ ہاؤس آف چیئرٹی کام کررہاہے جو پاکستان سے تعلق رکھنے والےان غریب اور نادار بچوں کو امریکہ لاکر علاج کی سہولت مہیا کرتا ہے جو وہاں پرجدید طبی سہولتوں کی عدم دستیابی یا وسائل کی کمی کے باعث علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس ادارے کی روح رواں حشمت آفندی ہیں ، جن کاتعلق پاکستان سے ہے۔ اس ادارے میں پاکستان سے لائے گئے کئی ایسے بچے زیر علاج ہیں جن کا وہاں پر علاج اگر ناممکن نہیں تو دشوار ضرور تھا۔
میانوالی کے نواحی علاقےسے تعلق رکھنے والا دس سالہ سلامت اللہ ہو یا اسلام آباد کے سگنلز پر گاڑیوں کا شیشہ صاف کرنے والا بلال ، دونوں کی کہانی مختلف ہونے کے باوجود کچھ مماثلت رکھتی ہے۔ اور وہ مماثلت ہے چیئرٹی ہاؤس،جہاں ان کا مفت علاج کیا جارہا ہے۔ بیگم حشمت آفندی اس ادارے کی سربراہ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم لوگ بین الاقوامی سطح پر کام کرتے ہیں۔ ہم تقریباً گیارہ ممالک میں جاتے ہیں اور وہاں پر ہمارے پاس سو کے لگ بھگ میڈیکل پروفیشنلز ہیں جو ہمارے لیے رضاکارانہ بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔ لیکن چونکہ میرا تعلق پاکستان ہےاور میں پاکستان میں پلی بڑھی ہوں۔ میں نے انسانی خدمت کے لیے اپنے کام کا آغاز بھی وہیں سے کیا تھا اور میں یہ سمجھتی ہوں کہ چیئرٹی کا آغاز اپنے گھر سے ہونا چاہیے۔ اس لیے میری کوشش ہوتی ہے کہ میں پہلے پاکستان کے مستحق افراد کے لیے کام کروں۔
نو سالہ سلامت اللہ میانوالی کے نواحی قصبے داؤد خیل سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کبھی علاج کے لیے امریکہ آئے گا۔
سلامت اللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں میرے ابوکا ایک دوست تھا اس نے بولا کہ لاہور میں کوئی ہاسپٹل ہے جو بچوں کوعلاج کے لیے امریکہ بھجواتا ہے۔ تو پھر میرے ابو نے کہاتھا کہ نہیں ، مجھے یقین نہیں آتا لیکن پھر میں کوشش کر لیتا ہوں تو پھر میرے ابو مجھے لاہور لے گئے اورپھر اسپتال والوں نے کہا کہ تمہیں علاج کے لیے امریکہ جانا پڑے گا۔ پھر میرا ویزہ بنا پاسپورٹ بنا۔ پھر میں ادھر آگیا۔
حشمت آفندی کہتی ہیں کہ اس بچے کوایک ایسا ٹیومر ہے جو زیادہ تر جانوروں میں پایا جاتا ہے۔ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پانچواں کیس ہے۔ کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا ہمیں پتہ نہیں ہوتا کہ ان کا علاج اتنا لمبا ہو گا جیسے کہ اس بچے سلامت اللہ کا ہے۔ اس کی سرجری ہوئی ،اس کا ٹیومر نکال دیا گیا لیکن وہ دوبارہ اگنا شروع ہوگیا۔ تو پھر اس کی دوبارہ سرجری کرنی پڑی اور وہ سرجری چودہ گھنٹے لمبی تھی۔
چیئرٹی ہاؤس میں زیر علاج دو پاکستانی بچہ نو سالہ بلال ہے جو اسلام آباد کے ایک سگنل پر گاڑیوں کے شیشے صاف کرتا تھا۔ اور اسی دوران ایک ایکسیڈنٹ میں اس کی ٹانگ کٹ گئی۔
بلال کا کہنا ہے کہ میں اسلام آباد میں سٹکر بیچتا تھا۔ پہلے دوستوں کے ساتھ جاتا تھا۔ پھر جب کچھ ہوشیار ہوا تو اکیلا جانے لگا۔ پھر ایکسیڈنٹ میں ٹانگ کٹ گئی۔ بس اب سرجری ہوگی۔
حشمت آفندی کے بلال کے بارے میں بتایا کہ وہ بہت ہی سمجھدار بچہ ہے۔ اسے دیکھ کر محسوس ہی نہیں ہوتا کہ وہ ان پڑھ ہے اور ایک سگنل پر وہ گاڑیوں کے شیشے صاف کرتا تھا۔
اس کا کیس بہت پیچیدہ ہے کیونکہ اس کی ٹانگ کا آپریشن کچھ اس طرح ہوا ہے کہ اس میں ساکٹ نہیں لگ سکتی اور پھر وہاں ایک ہڈی بھی باہر نکلی ہوئی ہے۔ پاکستان میں اس کا علاج ممکن نہیں تھا۔
ہاؤس آف چیئرٹی کے لیے کام کرنے والے امریکی ڈاکٹرز ایک گروپ کے ساتھ ہر چند ماہ بعد پاکستان میں طبی کیمپس لگا کرپیدائشی طور کٹے ہوئے ہونٹوں کا علاج کرتے ہیں۔
بیگم حشمت آفندی کے مطابق پاکستان میں ان بیماریوں کی ایک بڑی وجہ غربت کے ساتھ ساتھ زیادہ بچوں کی پیدائش اور خاندان میں آپس میں شادیاں کرنے کا رواج بھی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ کچھ بچے جن کے ہونٹ پیدائشی طورپر کٹے ہوئے ہوتے ہیں ،اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک غریب خواتین اپنا خیال نہیں رکھتیں۔ ایک کے بعد ایک بچے ہوتے ہیں اور چوتھے یا پانچویں بچے کے پیدا ہونے وا لے بچے میں اس مرض کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح قریبی رشتے داروں میں شادیاں کرنے سے بھی اس طرح کے واقعات سامنے آتے ہیں۔
ہاؤس آف چیئرٹی میں بچوں کو مفت علاج مہیا کرنے کے علاوہ انہیں دیگر مثبت سرگرمیوں کی طرف بھی مائل کیا جاتا ہے تاکہ وہ وطن واپس جا کر معاشرے کے لیے مفید شہری ثابت ہو سکیں۔ کھیلوں کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان کے لیے ایک انگریزی زبان کے ٹیوٹر کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
حشمت آفندی کا کہنا ہے کہ ہاؤس آف چیئرٹی کی جانب سے شروع کئے جانے والے اس سلسلے کو پاکستان میں لاہور کے بعد اب جیکب آباد تک بڑھایا جارہا ہے۔