کالجوں اور یونیورسٹیوں کے کیمپس میں ملازمت حاصل کرنا آسان نہیں ہے، لیکن امریکن یونیورسٹی کےسکول آف انٹر نیشنل سروس کے محسن علی کہتے ہیں کہ فیسوں کے لیے مالی مدد کے علاوہ، انہیں مختلف پروفیسرز کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔ محسن نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے واشنگٹن کالج آف لا میں بطور سٹاف اسسٹنٹ کی ملازمت کیسے حاصل کی، اور ان کے خیال میں اس جاب سے مستقبل میں انہیں ملازمت کی تلاش میں کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔
امریکن یونیورسٹی کے واشنگٹن کالج آف لا میں لیگل ریٹرک پروگرام کے دفتر میں56 پروفیسر پڑھاتے ہیں۔ محسن علی ہفتے میں 28 گھنٹے یہاں کام کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ کیونکہ یہاں کا ورک لوڈ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے انہیں ایک ایکچول دفتر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ادھر ایک پروگرام کورڈنیٹر ہیں، جو کہ میرے باس ہیں، اور ایک سٹاف اسسٹنٹ جو کہ میں ہوں۔
انہیں یہ ملازمت آسانی سے نہیں ملی بلکہ انہیں بہت سے لوگوں سے بات کرنی پڑی اور اس نوکری میں دلچسپی کا ثبوت دینا پڑا۔ پاکستان سے آنے والے طلبہ کو بھی محسن یہی مشورہ دیتے ہیں کہ داخلے کے بعد کالج کے مختلف ڈپارٹمنٹس سے نوکری کے مواقع کی معلومات حاصل کریں۔
وہ کہتے ہیں کہ آپ اس جاب مارکٹ میں اور ان حالات میں اگر مؤثر طورپر کوشش کرنی ہوگی۔ آپ جتنی زیادہ محنت اور کوشش کریں گے، ملازمت ملنے کے توقع اتنی ہی زیادہ ہوگی۔
کیمپس میں نوکری کرنے کے بہت سے فوائد ہو سکتے ہیں۔محسن امریکن یونیورسٹی کے سکول آف انٹرنیشنل سروسز میں فال سمسٹر میں پڑھائی شروع کریں گے۔ اور اس نوکری کی وجہ سے ان کی کالج کی فیس کافی کم ہو جائے گی۔
اس کے علاوہ طلبہ کیمپس پر نوکری کے ذریعے بہت سے ہنر بھی سیکتے ہیں۔ مختلف موضوعات پر اساتذہ کے لیے تحقیق اور ایڈٹنگ کرنے سے محسن اس کام میں خوب مہارت حاصل کر رہے ہیں۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ اساتذہ کا کام ایڈٹ کرنے سے انہیں اپنی قابلیت کے اظہار کا موقع بھی ملتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کیونکہ یہ وہ کام ہے جو ابھی تک پریس میں نہیں گیا، یا پرینٹ نہیں ہوا۔ یاکسی کانفرنس میں پیش نہیں کیا گیا۔ اس کام کو سب سے پہلے میری آنکھیں دیکھتی ہیں۔
ٕٕیہ محسن کی پہلی ملازمت نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ کو کیمپس پر ایسی نوکری ڈھونڈنی چاہیے جو پڑھائی کے بعد تلاش معاش میں ان کے کام آسکے۔ محسن کہتے ہیں کہ وہ چندسال کے بعد پڑھانا چاہتے ہیں۔ اور کیمپس کی یہ نوکری انہیں مختلف اساتذہ سے ملواتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اساتذہ کے ساتھ کام کر کے مجھے سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ ڈے ٹو ڈے بیسس پر میں سیکھ رہا ہوں کہ ان کے طویل المدتی پراجیکٹ کس طرح کام کرتے ہیں۔ ان کے قلیل المدتی پراجیکٹ کس طرح کام کرتے ہیں ۔وہ سٹوڈنٹس کے ساتھ کیسے کام کرتے ہیں۔ اور ٹیچنگ کے ساتھ ساتھ ان کی باہر کی زندگی کسی ہوتی ہے۔
کیمپس پر نوکری ڈھونڈنے کے لیے عموما بہت جدو جہد کرنی پڑتی ہے، اور غیر امریکی طلبہ کے لیے کیمپس پر نوکری کے مواقع کچھ کم ہی ہوتے ہیں۔ لیکن ایسی ملازمت کالج کی فیسوں کے سلسلے میں طلبہ کو امداد فراہم کرنے کے علاوہ انہیں ان کے پروفیشن میں بھی مدد کر سکتی ہے۔