ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

تعلیم و نوجوان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

پہلوٹی کا بچہ چھوٹے بہن بھائیوں سے زیادہ ذہین ہوتا ہے

شیئر کیجیئے


مشرقی معاشروں میں پہلوٹھی کی اولاد، بالحضوص اگروہ لڑکا ہوتو اسے بہت اہمیت دی جاتی ہے۔  بادشاہت کے دور میں عام طورپر پہلے بچے کو تخت و تاج کا وارث سمجھا جاتاتھا۔  اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ پہلی اولاد کو اپنے دوسرے بچوں پر فوقیت دینا معاشرتی رواجوں کا حصہ ہے اور پہلے بچے میں عام طورپر اس کے سوا اور کوئی خوبی نہیں ہوتی کہ وہ اتفاقیہ طورپراپنے دوسرے بہن بھائیوں سے پہلے اس دنیا میں آجاتا ہے۔  تاہم  حال ہی میں اس سلسلے میں کیے جانے والے ایک مطالعاتی جائزے سے دلچسپ نتائج سامنے آئے ہیں۔

جریدے لائیو سائنس میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق ناروے میں 18 اور 19 سال کی عمر کے 25 ہزار کے لگ بھگ نوجوانوں پر کیے جانے والے اس سروے کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ آئی کیو ٹیسٹ میں ان بچوں کے اسکورزیادہ تھے جو پہلوٹھی کی اولاد تھے۔  گویا پہلوٹھی کے بچوں کو، اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی نسبت، ماں باپ کی زیادہ توجہ، زیادہ لاڈپیار، اور زیادہ قربت کے ساتھ ساتھ قدرت کی طرف سے بالعموم زیادہ  ذہانت بھی  بونس میں ملتی ہے۔

ناروے میں اس موضوع پرایک لاکھ سے زیادہ  لڑکوں  پر کیے جانے والےایک اور مطالعاتی جائزے کے نتائج جریدے انٹیلی جنس میں شائع ہوئے ہیں۔  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلوٹھی کے لڑکے کا آئی کیو، یعنی ذہانت کی سطح اپنے چھوٹے بھائی کی نسبت 2.3 پوائنٹ زیادہ تھی۔  بڑے اور چھوٹے بھائیوں کے آئی کیو کی پیمائش اس وقت کی گئی جب ان کی عمریں 18 یا 19 سال تھیں۔  اس ریسرچ میں یہ پہلو مدنظر رکھا گیا کہ چھوٹے بھائی کے آئی کیو کی پیمائش اس وقت کی جائے، جب وہ اس عمر کو پہنچ جائے جب اس کے بڑے بھائی کے آئی کیو کا ٹیسٹ لیا گیاتھا۔  تاکہ آئی کیو کے ٹیسٹ کے وقت دونوں بھائیوں کی عمر ایک ہی ہو۔

برکلے  میں واقع یونیورسٹی آف کیلی فورنیا  کے شعبہ نفسیات کے ایک ماہر فرینک سلو وے کہتے ہیں کہ ذہانت اور بہن بھائیوں میں پیدائش کے نمبر کے درمیان  تعلق پر کیے جانے والے یہ دونوں مطالعاتی جائزے گذشتہ 75 برسوں کے دوران کیے جانے والے اہم ترین جائزے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اس مطالعاتی جائزے سے اس  نظریے کو تقویت ملتی ہے کہ کسی ایک بچے کی ذہانت کا براہ راست تعلق والدین کے ساتھ وقت گذارنے سے ہے۔  چونکہ پہلا بچہ، دوسرے بچوں کی نسبت ماں باپ کی زیادہ توجہ حاصل کرتا ہے اور وہ عمومی طورپر دوسرے بچوں کے مقابلے میں ماں باپ کے ساتھ زیادہ وقت گذارتا ہے، اس لیے اسے سیکھنے کے مواقع زیادہ ملتے ہیں اور اس کی ذہانت کی سطح اپنے دوسرے بہن بھائیوں کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے۔

تحقیقی جائزے سے ان نوجوانوں کے بارے میں ایک دلچسپ پہلو سامنے آیا جو پیدائش کے لحاظ سے تو اپنے گھر میں دوسرے نمبر پر تھے لیکن بڑے بھائی کے جلد انتقال کے بعد انہیں گھر میں بڑے بھائی کا مقام ، حیثیت ، پیار اور توجہ حاصل ہوگئی تھی۔ ان کی ذہانت کی سطح ، پہلوٹھی کے لڑکوں کے گروپ کے مساوی تھی۔

پروفیسر سلووے کہتے ہیں کہ بڑا بھائی کھونے کےبعد چھوٹے بھائی کی ذہانت کا معیار بڑے بھائی کے درجے پر پہنچ جاتا ہے۔  گویا ذہانت کی پیمائش کے لحاظ سے وہ بڑا بھائی بن جاتا ہے۔

 نفسیاتی ماہرین نے اس مطالعاتی جائزے کے نتائج کو مختلف پہلوؤں سے پرکھتے ہوئے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ شاید  بڑے بھائی کے مقابلے میں  چھوٹے بہن بھائیوں کی ذہانت کا درجہ کم ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ بڑا بھائی اپنے چھوٹے بہن بھائیوں سے ایک استاد اور اتالیق کے طورپر برتاؤ کرتا ہے۔  جس کا اثر بڑے بھائی کے اپنے سیکھنے کے عمل پر پڑتا ہے۔  تاہم اس  نظریے کی توثیق کے لیے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ پہلوٹھی کے بعد پیدا ہونے والے بچے اپنی زندگی کا آغاز نسبتاً ایک زیادہ آئی کیو کے ماحول میں کرتے ہیں۔  لیکن اس کا ایک اثریہ ہوتا ہے کہ وہ کیونکہ اپنے بڑے بہن بھائی کی نسبت زندگی کے بہت سے ہنر مثلاً زبان، یا ریاضی وغیرہ کم جانتے ہیں، اس لیے ان کی وجہ سے ان کے بڑے بہن بھائیوں کے لیے سیکھنے کے ماحول کی سطح نیچے آجاتی ہے۔

پروفیسر سلووے کہتے ہیں کہ والدین کو یہ بات اپنے ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہر نئے بچے کی پیدائش کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے پہلے سے موجود بچوں کے لیے اس ماحول  کو مزید کمزور کررہے ہیں جو ان کے آئی کیو میں اضافہ کرتا ہے۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ بالآخر جب بڑے بہن بھائی 12 سال کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں تو ایک بار پھر انہیں اپنے چھوٹے بہن بھائیوں پر ذہانت کے اعتبار سے برتری ثابت کرنے کا ماحول میسر آجاتا ہے۔

سلووے کہتے ہیں کہ اگرچہ بڑے بہن بھائی آئی کیوکے اعتبار سےاپنے چھوٹے بھائیوں کی نسبت بہتر ہوتے ہیں۔  اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب وہ اپنی پڑھائی میں مصروف ہوتے ہیں، تو وہ  وقت ان کے چھوٹے بہن بھائی کھیل کود اور دوسری تفریحی سرگرمیوں میں گذاررہےہوتے ہیں۔  جس کا نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ چھوٹے بہن بھائی دوسری چیزوں مثلاً آرٹ اور کھیل میں اپنے بڑے بہن بھائیوں کی نسبت زیادہ بہتر کارکردگی دکھاسکتے ہیں۔