چار کی بجائے تین سال میں بیچلر کی ڈگری۔ آج کل امریکہ میں اس کی خیال کی خوب پذیرائی ہو رہی ہے، لیکن بیچلر ڈگری کے حصول میں بچنے والے وقت سے مراد تعلیم پر اُٹھنے والی رقوم میں بچت ہرگز نہیں۔
(بات مزید آگے بڑھانے سے پہلے ہم وضاحت کر دیں کہ امریکہ میں بارھویں جماعت کے بعد عام طور پر چار سال کی تعلیم کے بعد بیچلر ڈگری ملتی ہے، جب کہ پاکستان میں دو سال کےبعد)
آخری مرتبہ سال 2001ء میں محکمہٴ تعلیم نے نوجوانوں سے دریافت کیا تھا کہ آپ کو کالج کی تعلیم مکمل کرنے میں کتنا وقت لگا۔ 55 فی صد نے چار سال میں بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی جب کہ 35فی صد نے کہا کہ اُن کو پانچ سال لگے۔
بقیہ چار فی صد نے تین سال میں ڈگری حاصل کی۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ ایک اچھا خیال تھا۔
سنیٹر لامار الیگزینڈر نے فروری میں اعلیٰ تعلیم سے وابستہ حکام کو خبردار کیا کہ اگر کالج کی تعلیم پر آنے والے اخراجات کو کم نہ کیا گیا تو خطرہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ تعلیم حاصل نہیں کر سکیں گے۔ ری پبلیکن سنیٹر سابق تعلیم کے وزیر ہیں اور یونیورسٹی آف ٹینی سی کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔اُنھوں نے مشورہ دیا کہ بیچلر کی ڈگری تین سالوں میں دی جائے تاکہ اخراجات اور وقت دونوں میں بچت ہو۔
پہلے ہی متعدد طالبِ علم تین برسوں میں گریجویشن کر سکتے ہیں۔ وہ گرمیوں میں زیادہ کلاسوں میں شرکت کر سکتے ہیں۔ ہائی سکول میں اُنھیں ڈبل پروموشن کے ساتھ کالج میں داخلے کے کریڈٹ مل چکے ہیں۔ ترقی کے ساتھ تعلیم کا مطلب ہوا کہ اُنھیں کم کلاسیں درکار ہیں۔
دوسرے لوگ جو تین سالوں میں گریجویٹ بننا چاہتے ہیں وہ چار سال کی فیس دے کر کم مدت میں تعلیم پوری کر سکتے ہیں۔
تین سالوں میں تعلیم حاصل کرنے والے جلد میدان میں قدم رکھنے والے ہیں، اور سال بھرپہلے کمانے کے اہل بن جائیں گے۔
سال 2005ء میں ریاست انڈیانا کے مونسیا شہر میں قائم بال سٹیٹ یونیورسٹی نے‘ تین سال کی ڈگری’ کا اجرا کیا۔ اس کے لیے طالبِ علموں کو موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران اضافی کلاسیں لینا پڑتی ہیں
سِنڈی مارنی تدریس کی نائب ڈائریکٹر ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ اِس وقت 29پروگرام ہیں جو تین سالوں میں بیچلر ڈگری دے رہے ہیں۔ اِن میں بزنس اور نرسنگ شامل ہیں۔ مارچ میں بال سٹیٹ میں18 ہزار طالب علموں میں سے 50 تین سالہ ڈگری کے پروگراموں میں حصہ لے رہے تھے۔
ریاست مائین کے لیوسٹن شہر کے بیٹس کالج میں طالب علم تین سالہ پروگرام میں شرکت کر رہے ہیں، اور اِس طرح دوسرے طالب علموں کے مقابلے میں ہر سیمسٹر میں زیادہ جماعتوں میں شرکت کر رہے ہیں۔ لیکن سب کے لیے خرچہ اُتنے کا اُتنا ہی ہے، یعنی 50 ہزار ڈالر سے زائد۔
کمیونی کیشن ڈائریکٹربرائن مک نلٹی کا کہنا ہے کہ بیٹس کالج ساٹھ کے عشرے سے بیچلر کی تین سالہ ڈگری کی پیش کش کر رہا ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ عمومی طور پر ہر سال صرف ایک یا دو طالب علم تین سالہ تدریس میں حصہ لیتے ہیں اور مئی کے گریجویشن کلاس میں کسی نے بھی داخلہ نہیں لیا۔
دوسرے تعلیمی ادارے بھی اپنے اپنےتین سالہ تدریسی پروگرام تیار کر رہے ہیں۔ اِن میں نیویارک کی ہارٹ وک کالج اور ٹیکساس کی یونی ورسٹی آف ہوسٹن وکٹوریا شامل ہیں۔ اور روڈ آئی لینڈ کے قانون سازوں کے سامنے ایک بل زیرِ غورہے جِس کی رو سے ریاست کے سکولوں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ تین سال میں ڈگری دے سکیں۔