چینی حکام نے جمعے کے روز غیر ملکی نامہ نگاروں کو تاریخی شہر کاشغر سے نکل جانے کا حکم دیا ہے
سنکیانگ کے علاقے میں چینی حکام نے ایغور مسلمانوں اور ہان اکثریت کے چینیوں کے درمیان مزید تشدّد کو روکنے کی تازہ ترین کوشش کے تحت حکم دیا ہے کہ دارالحکومت اُرمچی میں جمعے کے روز مسجدیں بند رکھی جائیں۔
چینی حکام کے اس حکم کے باوجود جمعے کی نماز کے لیے جب ہزاروں مسلمان مسجدوں کے باہر جمعے ہوگئے تو انہوں نے سڑکوں پر سکیوٹی فورسز کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے کچھ مسجدوں کو کھول دیا۔
جمعے کے روز ہی پولیس نے سفید مسجد کے باہر ایغور مسلمانوں کے ایک مختصر احتجاجی مظاہرے کو منتشر کردیا۔
چینی حکام نے تشدّد کے واقعات میں 156 لوگوں کی ہلاکت کے بعد اُرمچی میں امن امان قائم کرنے کے لیے ہزاروں فوجی تعینات کردیے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تشدّد کے واقعات اتوار کے روز ہان چینیوں پر ایغور مسلمانوں کے حملو ں سے شروع ہوگئے تھے۔
دو دن بعد شہر کے ہان چینی باشندے ایغوروں سے بدلہ لینے کے لیے ڈنڈے، خنجر اور دوسرے ہتھیار لے کر اُرمچی کی سڑکوں پر نکل آئے۔ پولیس نے کم سے کم ایک ہزار 434 لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
خوں ریز واقعات کے نتیجے میں اُرمچی کے ہزاروں لوگ شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
حکام نے جمعے کے روز غیر ملکی نامہ نگاروں کو حکم دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے تاریخی شہر کاشغر سے نکل جائیں۔حکومت نے صحافیوں کی سلامتی کے بارے میں تشویش کو اس حکم کی وجہ قرار دیا ہے۔
چین کے صدر ہو چِن تھاؤ نے سنکیانگ میں امن و استحکام قائم کرنے اور اُرمچی میں فسادات کے ذمّے دار لوگوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔مسٹر ہُو نے تشدّد کا الزام دہشت گردوں اور اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک علیٰحدگی پسند عناصر پر عائد کیا ہے۔