امریکہ آنے کے بعد انٹرنیشنل طالب علموں کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے بارے میں ہم نے کیمپس سر یز کی پچھلی رپورٹ میں سعد زمان سے بات کی تھی۔ سعد خود بھی پاکستان سے امریکہ پڑھنے کی خاطر آئے ہیں اس لیے وہ تمام مراحل سے بہ خوبی آگاہ ہیں۔
سعد کے مطابق اس ضمن میں سب سےپہلا کام یونیو رسٹی کا انتخاب ہے۔ آپ کو یہ بات ذہن میں رکھنی ہے کہ آپ کی منتخب کردہ یونیو رسٹی آپ کے مطلوبہ شعبے کے وہ تمام مضامین پڑھاتی ہے جو آپ کو چاہئیں، اور جن میں آپ کی دل چسپی ہے۔ اس بارے میں معلومات آپ کو اپنے ملک میں موجود یونیورسٹو ں کے علاوہ ، امریکی سفارت خانوں کے تعلیمی ڈیپارٹمنٹ سے بھی مل سکتی ہیں جو اس سلسلے میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہں ۔
امریکی یونیورسٹیوں کی آن لائن ویب سائٹس اور ای میل سسٹم کے ذریعے آپ مطلوبہ معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکتے ہں ۔ اس سلسلے میںسب سے بڑی اور اہم ویب سائٹ پیٹرسنز ہے۔ یہاں آپ کو امریکی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے بارے میں ہر طرح کی معلومات مل جائیں گی۔
اس کے ساتھ ساتھ امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی تعلیی ویب سائٹ پر بھی امریکہ میں تعلیم کے طریقہٴ کار کے بارے میں تمام معلومات موجود ہیں۔
جارج میسن یونیو رسٹی کے بین الاقوامی پروگرام کی ڈائرریکٹر جوڈتھ گرین کا کہنا ہے کہ طلبا کی تعلیمی قابلیت کا اندازہ لگانے کے لے مختلف امتحان لیے جاتے ہیں۔داخلے کے لےے انٹرنیشنل طالب علموں کے لیے سب سے پہلا مرحلہ ٹوفل ہے، جس کا مقصد طلبا کے انگریزی زبان پر عبور کا اندازہ لگانا ہے۔ بیچلر اور ماسٹرز کی ڈگری کے لحاظ سے طلبا کو SAT ،GMAT یا GRE کا امتحان بھی دینا پڑتا ہے۔
ان امتحانوں کی درجہ بندی ، ایک مکمل درخواست فارم، تعلیمی ریکارڈ ، آپ کی مالی حالت کا اندازہ لگانے کے لے آپ کی بینک سٹیٹمنٹ، پرسنل سٹیٹمنٹ وغیرہ درکار ہوتی ہیں۔ ان تمام کاغذات کو یونیورسٹی بھجوانا ہوتا ہے جو آپ کو داخلہ ملنے کا فارم یین I-20 بھجواتی ہے۔ جس کے ذریعے آپ ویزے کے حصول کے لیے درخواست دیتے ہیں۔
پرسنل سٹیٹمنٹ کے ذریعے آپ اپنی یونوررسٹی میں موجود ایڈمشن افسر کو اپنے تعلیمی پس منظر کے بارے میں بتاتے ہیں اور یہ کہ آپ کی منتخب کردہ یونیو رسٹی آپ کے مستقبل کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہے اور آپ یہاں آکر کیوں پڑھنا چاہتے ہیں۔
آپ نے دیکھا ہو گا کہ ہماری ویب سائٹ کا ڈیزائن بدل گیا ہے۔ ازراہِ کرم اس نئے ڈیزائن کے بارے میں ہمیں اپنی رائے، تجاویز اورمشوروں سے urdu@voanews.com پر آگاہ کریں۔