موجودہ سال اس لحاظ سے تبدیلی کا بڑا سال ثابت ہوا ہے کہ تین ایسی فلمیں آئی ہیں جنہوں نے بالی وڈ مسلمانوں کی تصویر کو یک سر تبدیل کر دیا ہے
مغلِ اعظم ہندوستان تاریخ کی سب سے بڑی فلم ہے
’نو گیارہ کے بعد میرے نام کی وجہ سے میرا امریکہ کا ویزا کئی بار نامنظور کر دیا گیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ میرے نام کا آخری حصہ ٹھیک نہیں ہے‘‘: اداکار کبیر خان
بھارتی فلموں میں آغاز سے ہی مسلمانوں کا اچھا خاصا دبدبہ رہا ہے۔ فلم ہدایت کار ہوں یا مصنف، شاعر ہوں یا اداکار، مسلمان ہمیشہ صفِ اول میں رہے ہیں۔ لیکن یہ عجیب اتفاق ہے کہ پردہٴ سیمیں پر اکثر و بیشتر ان کی منفی تصویر ہی پیش کی گئی۔ یا تو انہیں عیاش نواب دکھایا گیا یا پھر شراب کے نشے میں دھت شاعر، یا طوائفوں کے کوٹھوں پر خرمستی کرنے والا تماش بین۔ یہاں تک کہ زیادہ تر غنڈے اور بدمعاش بھی مسلمان ہی تھے۔
یہ ایک طرح سے بندھا ٹکا کردار تھا جس کو مسلمانوں پر منطبق کر دیا جاتا تھا۔ 1960ء میں بالی ووڈ کی سب سے اہم فلم ”مغل اعظم“ آئی تھی جس میں دلیپ کمار نے عیش و عشرت میں شرابور شہزادہ سلیم کا کردار ادا کیا تھا۔ پھر ”چودھویں کا چاند“ میں ایک شاعر کا کردار پیش کیا گیا جس میں گرودت نے لکھنئو کے ایک نوجوان اسلم کا کردار نبھایا۔ 1981ء میں مظفر علی کی فلم ”امراؤ جان ادا“ آئی جس نے فاروق شیخ مجرہ کرنے والی کی عاشق نواب سلطان کی شکل میں نمودار ہوئے۔ فلم ”نکاح“ میں بھی سلمیٰ آغا نے ایک ایسا کردار ادا کیا تھا جس کے دو عاشق تھے اور اس فلم میں پہلی بار طلاق کے بعد حلالے کا مسئلہ پیش کیا گیا تھا۔
آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایت کار ستیہ جیت رائے کی فلم ’شطرنج کے کھلاڑی‘ میں لکھنئو کی زوال آمادہ تہذیب کے شاہ کار دو نوابوں کو دکھایا گیا ہے جن کی مٹھیوں سے ان کی ریاست ریت کی طرح پھسلتی جاتی ہے اور وہ شطرنج کے بازیوں کے خمار میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
فلم چودھویں کا چاند میں گرودت اور وحیدہ رحمٰناس طرح سے فلم ”جنون“ میں بھی 1857ء کے غدر کو پیش کرتے ہوئے ایک ریاست کے نواب نے ناکام عاشق کا رول نبھایا تھا۔ لیکن ان فلموں کے درمیان ایک فلم ”گرم ہوا“ بھی آئی جس کے ہدایت کار ایس ایم ستیو نے بھارتی مسلمانوں کے اصل مسئلے کو پیش کیا کہ کس طرح سے تقسیم ملک کے بعد پوری مسلم قوم کو شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور زندگی کی راہیں ان کے لیے بہت دشوار ہو گئی ہیں۔
لیکن ایسا محسوس ہو تا ہے کہ اب بھارتی فلموں میں مسلمانوں کا چہرہ تبدیل ہورہا ہے۔ 80 کی دہائی کے بعد ہی یہ تبدیلی آنی شروع ہو گئی تھی۔ جب فلم ”گرم ہوا“ بنی تھی اور اس کے بعد ہی سعید مرزا کی فلم ”سلیم لنگڑے پہ مت رو“ بھی آئی تھی، جس میں غریب مسلمانوں کے زمینی حقائق کو پیش کیا گیا تھا۔ یہ فلم ممبئی کی غریب بستی کے ایک مسلم نوجوان کی ہے جو اپنی روزی روٹی کے لیے اتنا مایوس اور مجبور ہو جاتا ہے کہ سماج کے تئیں اپنا غصہ جتانے کے لیے جبراً وصولی اور تشدد کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سے ناگیش ککنور کی فلم ”اقبال“ میں بھی سماج کے حاشیے پر کھڑا ایک نوجوان اپنی مذہبی شناخت سے بے پروا ہو جاتا ہے۔
2009ء اس لحاظ سے تبدیلی کا بڑا سال ثابت ہوا ہے کہ تین ایسی فلمیں آئی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی تصویر کو یک سر تبدیل کر دیا ہے۔ اس میں پہلی فلم ”نیویارک“ ہے جس میں امریکہ کے نوگیارہ کے دہشت گردانہ حملے کو پس منظر بنایا گیا ہے۔ اس کے کردار سلیم کوایف بی آئی حراست میں لے لیتی ہے اور اس ناانصافی کے خلاف ایک اور کردار تشدد کے راستے پر چل پڑتا ہے۔ اس فلم کے مرکزی کردار کبیر خان کہتے ہیں ’نو گیارہ کے بعد میرے نام کی وجہ سے میرا امریکہ کا ویزا کئی بار نامنظور کر دیا گیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ میرے نام کا آخری حصہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس نے مجھے بطور مسلمان اپنی شناخت کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا۔‘
اسی سلسلے کی ایک دوسری کڑی فلم ”قربان “ ہے جو بھارتی مسلمانوں کی مظلومیت کو پیش کر تی ہے۔ ”قربان“ کے ہدایت کار ڈی سلوا کامقصد غیر جانبدار رہنا نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں ”نسلی امتیاز اور دہشت گردی جیسے مسئلوں پر آپ بالکل غیر جانب دار کیسے رہ سکتے ہیں؟ ہو سکتا ہے کہ بہت سے گورے لوگوں کو میری فلم پسند نہ آئے مگر وہ یہاں اس مسلمان کی بات سنیں گے جو بنیاد پرست اسلام کے خلاف رائے رکھتا ہے اور جسے عام طور پر کبھی بھی فلم میں صحیح ڈھنگ سے نمائندگی نہیں دی جاتی ہے۔“
ڈی سیلوا کی فلم جمی ہوئی برف کو توڑتی ہے جس کے ایک منظرنامے میں سیف علی خاں کے کردارکی بنیاد پرست اسلام کے پیروکار دوسرے شخص سے زبردست گرما گرم بحث ہو جاتی ہے۔ امریکی پس منظر جہاں ایک طرف مسئلے کو عالم کاری عطا کرتا ہے وہیں دوسری طرف اس کی کچھ حدیں بھی ہیں جیسے بھارت کے پس منظر میں فرقہ واریت کے مسئلہ کو چھوئے بغیر گزر جانا۔
فلم نیویارک نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کے پس منظر میں بنائی گئی ہےاس سلسلے کی تیسری فلم ”مائی نیم از خان“ ہے، جس کی ہدایات کرن جوہر نے دی ہیں۔ یہ فلم آئندہ سال فروری میں ریلیز ہو گی۔ یہ فلم رضوان خان کی کہانی ہے جس کا کردار شاہ رخ نے ادا کیا ہے۔ رضوان کو ممبئی کے بوری ویلی میں اس کی ماں نے پال پوس کر بڑا کیا ہے وہ بڑا ہو کر امریکہ جاتا ہے۔ جہاں اسے مندرا ( کاجول ) سے عشق ہو جاتا ہے۔
رضوان آسپرگر سنڈروم (Asperger’s Syndrome) کا شکار ہے، جس کے باعث مریض کا سماجی مزاج غیر متوازن ہو جاتا ہے۔ نو گیارہ دہشت گردانہ حملے کے بعد اس کے مرض کے باعث غلط سمجھ کر اور مشتبہ کردار کے باعث ایف بی آئی اسے گرفتار کر لیتی ہے۔ شاہ رخ کے الفاظ میں ”یہ دنیا بھر میں موجود دہشت گردی، نفرت اور قتل و خون جیسی معذوریت کے سبب ایک معذور شخص کی جنگ کی کہانی ہے۔ “
شاید یہ اتفاق ہی ہے کہ ان تینوں ہی فلموں کی کہانی امریکہ کے گیارہ نو کے دہشت گردانہ واقعے کے گرد گھومتی ہے۔ حالانکہ اس المیہ کے سبب کئی فلمیں وجود میں آئی ہیں، جن میں پاکستان میں بنائی جانے والی فلم ’خدا کے لیے‘ بھی شامل ہے، لیکن بھارت کے فلم سازوں نے اسے ہندوستانی مسلمانوں کی ذہنی کیفیت کا جائزہ لینے کا محور بھی بنایا ہے۔ اسے گلوبلائزیشن کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے۔
ان تینوں فلموں سے یہ تو ضرور ظاہر ہوا ہے کہ بھارتی فلموں میں مسلمانوں کا چہرہ تبدیل ہو رہا ہے اورتلخ حقائق کو پیش کرنے کی شروعات ہو چکی ہے۔