دیوار برلن گرنے کے روس پر اثرات
9 نومبر 1989 کو دیوارِ برلن گرنے کے ساتھ ہی نہ صرف یورپ میں کمیونزم کا خاتمہ ہوا بلکہ سابق مشرقی بلاک پر سے ماسکو کا کنٹرول بھی ختم ہو گیا۔
پیٹر فیڈینسکی
|
ماسکو
9.11.09
’’دیوارِ برلن کے گرنے کے بعد روس کی معیشت کو منڈی کی آزاد معیشت کا سامنا کرنا پڑا اور پتہ چلا کہ اس کے سرکاری کنٹرول میں چلنے والی معیشت میں منڈی کی معیشت سے مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ہے‘‘۔
دیواربرلن کے گرنے کے بعد20 برس کے عرصے میں وسطی اور مشرقی یورپ کے بہت سے سابق کمیونسٹ ملکوں نے فوجی، سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں اصلاحات کی ہیں اورخود کو روس سے دور کر لیا ہے۔ لیکن روس اب بھی ایک موئثر فوجی اتحاد کی قیادت کرنے، اپنی معیشت کو جدید بنانے اور اپنے آمرانہ سیاسی نظام کو آزاد کرنے کی جد وجہد میں مصروف ہے۔
9 نومبر 1989 کو دیوارِ برلن گرنے کے ساتھ ہی نہ صرف یورپ میں کمیونزم کا خاتمہ ہوا بلکہ سابق مشرقی بلاک پر سے ماسکو کا کنٹرول بھی ختم ہو گیا۔ اس علاقے کے بہت سے ملک اب یورپی یونین میں شامل ہو گئے ہیں اور وارسا پیکٹ کے بجائے جس کی قیادت روس کے پاس تھی نیٹو کے رُکن بن گئے ہیں۔
غیر جانبدار روسی فوجی تجزیہ کارالیگزینڈر کونووالو (Alexander Konovalov) کہتے ہیں کہ نیٹو کے نئے ارکان روس سے تحفظ چاہتے تھے۔ ماضی میں سوویت یونین نے کئی بار ان پر اپنی مرضی مسلط کی تھی اوراگرچہ یہ ملک کُھل کر یہ بات نہیں کہیں گے لیکن ان ملکوں کے نیٹو میں شامل ہونے کی اصل وجہ روس اور سوویت یونین کی طاقت کا خوف تھا۔
روس نے ایک نیا دفاعی اتحاد ، The Collective Security Treaty Organization ، منظم کرنے کی کوشش کی ہے جس میں پانچ سابق سوویت جمہوریتیں شامل ہیں۔ لیکن Belarus نے جون میں اس اتحاد کے سربراہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا اورازبکستان نے تیزی سے حرکت کرنے والی فورس کے بارے میں ایک اہم سمجھوتے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
کونووالوکہتے ہیں کہ ایک اورسکیورٹی گروپ، The Shanghai Cooperation Organization یا SCO میں بھی روس کا اثر و رسوخ ختم ہو گیا ہے۔ بہت سے ملک SCO میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں آج کل مبصر کا درجہ دیا جا رہا ہے ۔ لیکن SCO سوویت نہیں بلکہ ایشیائی تنظیم ہے۔
کونووالو کہتے ہیں کہ دیوارِ برلن کے گرنے کے بعد روس کی معیشت کو منڈی کی آزاد معیشت کا سامنا کرنا پڑا اور پتہ چلا کہ اس کے سرکاری کنٹرول میں چلنے والی معیشت میں منڈی کی معیشت سے مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ہے۔ آج کل روسی لیڈر اکثر معیشت میں تنوع پیدا کرنے کی بات کرتےہیں لیکن ملک میں بیشتر تیار شدہ اشیاء درآمد کی جاتی ہیں اور بیشتربرآمدات تیل، گیس اور دوسرے قدرتی وسائل پر مشتمل ہیں۔ اس طرح روس کو عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر بہت زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے۔
RIA Novosti نیوز ایجنسی نے وزیرِ مالیات الیکس کدرن Alexi Kudrin کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اس سال عالمی منڈیوں میں مانگ کی کمی کی وجہ سے روس کی بر آمدات کی مالیت میں 109 ارب ڈالر کی کمی ہوگی۔
ماسکو کی New Eurasia Foundation کے صدراآندرے کورتنوو Andrei Kortunov کہتے ہیں کہ روس میں قدرتی وسائل کی بہتات کی وجہ سے اقتصادی اصلاحات کے لیے ترغیب پیدا نہیں ہوتی۔ وہ کہتے ہیں کہ روس کے سابق زیرِ اثر ممالک میں اقتصادی اصلاحات کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے ’’یہ ملک یورپی یونین میں شامل ہونا چاہتے تھے اوران کی اقتصادی پالیسیوں میں تبدیلی کی بنیادی وجہ یہی تھی۔ روس میں ایسی کوئی تحریک موجود نہیں ہے۔ روس کے یورپی یونین میں شامل ہونے کا مستقبلِ قریب میں کوئی امکان نہیں۔ اس لیے روس کے سامنے ایسا کوئی اعلیٰ مقصد نہیں جو اسے اقتصادی پالیسیوں میں تبدیلی کی ترغیب دلائے۔‘‘
کورتنوو کہتے ہیں کہ سوویت دور میں عام شہریوں اور مملکت کے درمیان ایک سوشل کنٹریکٹ موجود تھا جس کے تحت عام روسی مملکت سے یہ توقع کرتے تھے کہ وہ ان کی ضروریات پوری کرے گی۔ روس میں یہ تاثر اب بھی موجود ہے اورمسٹر Putin کے عہد میں یہ اور زیادہ مضبوط ہوگیا ہے۔ ماسکو کارنیگی سینٹر کی ماشا لپمین Masha Lipman اس خیال سے متفق ہیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس نے کافی ترقی کی ہے۔ ’’سفر کرنے کی آزادی، کاروبار کرنے کی آزادی ذرا آپ ان چیزوں کا مقابلہ سوویت روس کے زمانے سے کیجئے جب نجی ملکیت رکھنا اورمنافع کمانا جرم تھا۔ یہ بہت بڑا فرق ہے اور بہت سے لوگوں کے لیے یہ اپنی آرزوؤں کو پورا کرنے کا زبردست موقع ہے۔ اس میں ضرورکچھ پابندیاں اور حدود ہیں لیکن پھر بھی پرانے زمانے کے مقابلے میں یہ بہت بڑا فرق ہے۔‘‘
لپمین کہتی ہیں کہ بعض بوڑھے روسی آج بھی اس دورکو حسرت سے یاد کرتے ہیں جب سوویت یونین کو سپر پاور کا درجہ حاصل تھا۔ جہاں تک نوجوانوں کا تعلق ہے، وہ کہتی ہیں کہ ان کے لیے سوویت دور کی پولیس اسٹیٹ کی پابندیوں کا تصورکرنا مشکل ہے۔ جب تک آپ اس دور میں رہے نہ ہوں، آپ یہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ آپ نہ اپنی پسند کا میوزک سن سکتے تھے نہ اپنی مرضی کے کپڑے پہن سکتے تھے اور نہ عام نوجوانوں کی طرح اپنی زندگی سے لطف اندوز ہو سکتے تھے۔
لپمین کہتی ہیں کہ روس آج کل اپنی شناخت کی تلاش میں ہے جو دیوارِ برلن کے ساتھ دفن ہو گئی ہے۔ اس تاریخی دِن کے بارے میں بہت سے روسیوں کے احساسات مِلے جُلے ہیں۔ مشرقی یورپ کے لوگوں نے اس دِن کو اپنے ملکوں کی آزادی کی بحالی کے لیے استعمال کیا۔ تا ہم ایسا لگتا ہے کہ روسیوں کے ذہن میں سوویت اور زار روس کے عہد کے درمیان کمیونزم اور سرمایہ داری نظام کے درمیان اور مطلق العنان اور جمہوری طرزِ حکومت کے درمیان کشمکش موجود ہے۔