صدراوباماکا آئندہ دورہ مشرقی ایشیا
ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو ایشیا کا یہ دورہ جس میں صدر جاپان، سنگاپور، چین اور آخر میں جنوبی کوریا جائیں گے ان کے لیے جانے پہچانے ملکوں کا دورہ ہے۔
وائٹ ہاؤس
|
پاؤلا ولفسن
10.11.09
’’ایشیا کے لوگ ایک ایسے صدر سے ملیں گے جسے اس علاقے میں بہت دلچسپی ہے۔ لیکن یہ توقع نہیں ہے کہ مسٹر اوباما کا راک اسٹار جیسا خیر مقدم ہو گا ‘‘
امریکہ کے صدر باراک اوباما اِس ہفتےمشرقی ایشیا کے دورے پر جانے والےہیں۔ اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد بحرالکاہل کے علاقے کا یہ ان کا پہلا دورہ ہو گا۔اس دورے میں وہ صرف ایشیا کے لیڈروں سے نہیں، بلکہ عوام سے بھی ملیں گے۔
وہائٹ ہاؤس کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ صدر ایک پیغام لے کر ایشیا جا رہے ہیں ۔ جیف بیڈر وائٹ ہاؤس میں مشرقی ایشیا کے امور کے اعلیٰ ترین مشیر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میرے خیال میں صدر اوباما کے دورے سے ایشیا کے لوگوں پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ امریکہ ایشیا کے ساتھ اپنا تعلق قائم رکھے گا۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران ایشیا نے جو ترقی کی ہے اس کے بارے میں ممکن ہے اتنی شہ سرخیاں نہ بنی ہوں جتنی دنیا کے جنگ و جدال سے بھر پور علاقوں کے بارے میں بنتی رہی ہیں لیکن طویل عرصے میں مشرقی ایشیا کے ملکوں کی ترقی کہیں زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہو گی‘‘۔
بیڈرکہتے ہیں کہ ایشیا کے لوگ ایک ایسے صدر سے ملیں گے جسے اس علاقے میں بہت دلچسپی ہے۔ لیکن یہ توقع نہیں ہے کہ مسٹر اوباما کا راک اسٹار جیسا خیر مقدم ہو گا جیسا کہ اس سال کے شروع میں یورپ اور افریقہ میں ہو چکا ہے۔
سینٹر فار سٹیرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سڈیڈیز میں مشرقی ایشیا کے امور کے ماہر نکلولیس زیشئی کہتے ہیں کہ ایشیا کے لوگ زیادہ محتاط ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر آپ دیکھیں گے کہ صدراوباما میں بہت زیادہ دلچسپی لی جائے گی ان کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا جائے گا لیکن بہت سے سوالات بھی پوچھے جائیں گے کیوں کہ اس بارے میں بہت زیادہ تجسس موجود ہے کہ پالیسی کے اہم مسائل پر صدر اوباما کا رویہ کیا ہوگا۔
جن امور پر بات چیت ہو گی ان میں سرِ فہرست تجارت ہے۔ جاپان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں جو صدر کے ایشیا کے دورے کی پہلی منزل ہے یہ اہم ترین پہلو ہے۔ جاپان کے نئے وزیرِاعظم Yukio Hatoyama ایشیا کے دوسرے ملکوں کے ساتھ تجارتی شراکت داری کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ وہ امریکہ کے ساتھ موجودہ فوجی سمجھوتوں پر بھی نظر ثانی کرنا چاہتے ہیں۔
واشنگٹن کے بروکنگس انسٹیٹیوٹ میں کین لیبرتھلکہتے ہیں کہ امریکہ اور جاپان کے درمیان تعلقات میں یہ ایک اہم لمحہ ہے۔ بہت سے معاملات کو سلجھانا ضروری ہے۔ لیبرتھل سابق صدر کلنٹن کے زمانے میں ایشیا کے امور کے اعلیٰ مشیر تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر کے دورے کا اہم ترین اسٹاپ سنگاپور میں ایشیا پیسیفک اکنامک فورم ہوگا اگرچہ بظاہر اس کے بارے میں سب سے کم خبریں آئیں گی ’’صدر کلنٹن کی صدارت کی دوسری مدت کے دوران جب میں وائٹ ہاؤس میں کام کرتا تھا تو میں اس میٹنگ میں موجود تھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ انتہائی اہم اجتماع ہوتاہے کیوں کہ اس میں آ پ کو آمنے سامنے بیٹھ کر انفرادی طور پر اورمختلف گروپوں کے ساتھ بات کرنے کا موقع مِل جاتا ہے‘‘۔
ایشیا پیسیفک اکنامک فورم ایسا ادارہ نہیں ہے جس میں فیصلے کیے جاتے ہوں۔ لیکن اس میں بحرالکاہل کے لیڈروں کو کئی روز تک اپنے عملے کے بغیر مشورے کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ مسٹرلیبرتھل کہتے ہیں کہ میرے خیال میں صدر اوباما اس قسم کے لیڈر ہیں جو اس قسم کے مواقع کا پورا فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ وہ دوسروں کی بات آسانی سے سمجھ جاتے ہیں اورانہیں اختلافات دور کرنے کا فن آتا ہے ۔ انہیں علاقائی نقطۂ نظر خوب تفصیل سے سننے کا موقع ملے گا اور یہ ان کے لیئے بہت مفید ہو گا۔
چین میں صدر کے پروگرام میں زیادہ عوامی رابطے شامل ہوں گے۔ وہ بیجنگ کے علاوہ شنگھائی بھی جائیں گے جو چین کا مالیاتی مرکز ہے ۔ یہاں جن مسائل پر بات چیت ہو گی ان میں اقتصادی اور اسٹریٹجک امور جیسے عالمی اقتصادی کساد بازاری آب و ہوا میں تبدیلی اور نیوکلیئر اسلحہ کا پھیلاؤ شامل ہوں گے۔ چین کے امور کے مبصر ووڈرو ولسن سینٹر کے ڈوگلاس سپیلمین صدر کو کچھ مشورہ دینا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر کو حقیقت پسند اوردیانتدارہو نا چاہئیے ’’تعاون کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے خلوص اور سچائی سے کام لیجیئے اور میرے خیال میں صدر میں یہ خوبیاں موجود ہیں اور ہمارے درمیان جو اختلافات ہیں انہیں دیانتداری سے بیان کیجیئے‘‘۔
ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو ایشیا کا یہ دورہ جس میں صدر جاپان، سنگاپور، چین اور آخر میں جنوبی کوریا جائیں گے ان کے لیے جانے پہچانے ملکوں کا دورہ ہے۔ صدر اپنے بچپن کا کچھ حصہ انڈونیشیا میں گذار چکےہیں اور اس علاقے سے ان کی ذاتی یادیں وابستہ ہیں۔ اس دورے میں صدر انڈونیشیا نہیں جائیں گے لیکن ان کا ارادہ ہے کہ اگلے سال پھر ایشیا کا دورہ کریں اور جکارتا بھی جائیں۔