ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • ہفتہ, 07 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

ایشیا RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

انڈونیشیا: صدر یودھویونوصدارتی انتخاب جیت رہے ہیں

شیئر کیجیئے

ایگزٹ پولز سے ظاہر ہوتا ہے کہ انڈونیشا کے صدر سوسیلو بمبانگ یودھویونو بدھ کے روز ہونے والے انتخابات میں دوسری پانچ سال کی مدت کے لیے بھاری اکثریت سے کامیاب ہورہے ہیں۔

انڈونیشیا کے صدارتی انتخابات کے ابتدائی غیر سرکاری نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ توقع کے مطابق صدر سوسیلو بمبانگ یودھویونو کامیابی حاصل کررہے ہیں۔ انڈونیشیا بھر کے پولنگ اسٹیشنوں کے کچھ نمونوں کے مطابق صدر سوسیلو بمبانگ یودھویونو52 فی صد ووٹ جیت چکے ہیں جو دوسری بار انتخاب لڑنے سے بچنے کے لیے کافی ہوں گے۔

 ان کے مدمقابل نائب صدر یوسف کالا اورسابق صدر میگاوتی سوئیکارنوپتری دونوں نے صرف 20 سے کچھ ہی زیادہ ووٹ حاصل کیے۔

جنوبی جکارتہ کے مضافات میں انڈونیشیا کے سینکڑوں ووٹروں نے صدر کے لیے اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے خاصی دیر ترک انتظار کیا۔ووٹنگ بہت منظم تھی اور خوش گوار ماحول میں انجام پائی۔ ووٹنگ میں جعل سازی کو روکنے کے لیے ووٹ ڈالنے والوں کی انگلیوں پر کاسنی ان مٹ روشنائی لگائی گئی تھی۔

مغربی جاوا میں اپنی رہائش گاہ سے ٹیلی ویژن پر ایک خطاب میں مسٹر سوسیلو بمبانگ یودھویونو نے کہا کہ ایگزٹ پولز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی پارٹی انتخاب جیت چکی ہے۔ لیکن انہوں نے اپنے حامیو ں پر زور دیا کہ وہ اس وقت تک انتظار کریں جب تک قومی انتخابی کمیشن اس ماہ کے آخر میں اپنے سرکاری نتائج جاری نہیں کردیتا۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ساڑھے چار لاکھ پولنگ اسٹیشنوں پر کسی بڑے تشدد کی کوئی خبر نہیں ملی۔ مسٹر سوسیلو بمبانگ یودھویونو کے مخالفین نے اس سے پہلے ووٹروں کی فہرستوں میں مبینہ بے قاعدگیوں کے بارے میں خدشات ظاہر کیے تھے۔

 بدھ کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات سوہارتو کی ڈکٹیٹر شپ کے خاتمے سے بعد سے دوسرے انتخابات تھے۔

صدر سوسیلو بمبانگ یودھویونو کو، جنہیں لوگ پیارسے ایس بی وائی کہتے ہیں، یہ کریڈٹ دیا جاتا ہے کہ انہوں نے سوہارتو کی 32 سالہ مطلق العنانیت کے خاتمے کے بعد دس سال سے زیادہ کے ایک عرصے میں ساڑھے 23 کروڑ آبادی پر مشتمل مسلم اکثریتی ملک کی قیادت کرتے اسے اقتصادی اور سیاسی استحکام دیا ہے۔یودھویونو کو حکومتی بدعنوانی کے خاتمے اور دہشت گرد تنظیموں کی بیخ کنی  کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں پر سراہا جاتا ہے۔

تاہم انڈونیشیا کوابھی تک بڑے پیمانے پر غربت اور بدعنوانی کے مزید بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ جن کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے اور ملک کے متزلزل انفرا سٹرکچر کی اصلاحات کی کوششیں متاثر ہوسکتی ہیں۔

ان چیلنجوں کے باوجود مبصرین کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا، برک نامی ملکوں کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہوسکتا ہے جن میں برازیل، روس، بھارت اور چین شامل ہیں۔

 

رائے اور تبصرہ (0)

اپنی رائے ارسال کیجئے

* لازمی



آپ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آپ کے تبصرے کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور ممکن ہے اسے شائع نہ کیا جائے۔ وی او اے آپ کے تبصرے کو دنیا بھر میں نشر کرنے کا حق رکھتا ہے۔ استعمال اور پرائیویسی نوٹس