افغانستان کے جنوب میں طالبان کے مضبوط گڑھ صوبہ ہلمند میں امریکی اور افغان فوجیوں نے جمعرات کو ایک بڑے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے ۔ افغانستان کے استحکام کے بارے میں صدر براک اوباما کی نئی حکمت عملی کے تحت یہ پہلی بڑی عسکری کارروائی ہے ۔
”آپریشن خنجر“ کے نام سے علی الصباح شروع کیے جانے والے اس آپریشن میں چار ہزار امریکی فوجی اور 650 افغان اہلکاربڑی فوجی گاڑیوں کی مدد سے ہلمند میں داخل ہوئے اوراُنھیں ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل ہے۔
امریکی فوجی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد رواں سال 20 اگست کو ملک میں صدارتی انتخابات سے قبل علاقے سے جنگجوؤں کو باہر دھکیلنا اور امن وامان برقرار رکھنے کے لیے ہلمند میں امریکی اور افغان فوجوں کی تعیناتی ہے۔
امریکی کمانڈر بریگیڈئر جنرل لیری نکولسن نے کہا ہے کہ صوبے کے قصبوں اور دیہاتوں میں چوکیاں بنا کرفوجی مقامی آبادی کے ساتھ رہیں گے۔ کمانڈر نکولسن نے کہا کہ اس کاحتمی مقصد سیکورٹی کی ذمہ داریاں افغان فورسز کو سونپنا ہے۔
طالبان جنگجوؤں کے زیر اثر صوبہ ہلمندملک میں پوست پیدا کرنے والا سب سے بڑاعلاقہ ہے۔ دنیا بھر میں ہیروئن بنانے کے لیے 90 فیصد پوست افغانستان مہیا کرتا ہے ۔ واضح رہے کہ غیر قانونی منشیات طالبان جنگجوؤں کو وسائل مہیا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔