یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کے بارے میں یورپی کمیشن کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی نے انسانی حقوق اور اپنی کُر د اقلیت کے ساتھ سلوک کے شعبوں میں اصلاحات کی ہیں۔ لیکن رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترکی کو یورپی یونین کا رکن بننے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ترکی میں اس رپورٹ کے بارے میں کسی خاص دلچسپی کا اظہار نہیں کیا گیا ہے اور یورپی یونین کی رکنیت کے بارے میں شبہات بڑھتے جا رہے ہیں۔
یورپی کمیشن کی سالانہ پراگرس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی نے انسانی حقوق کے معاملات میں بعض اصلاحات کی ہیں لیکن یورپی یونین میں اپنی رکنیت کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے اسے تیزی سے مزید اصلاحات کرنی چاہئیں۔ یورپی یونین اور ترکی نے رکنیت کے مذاکرات 2005 میں شروع کیے تھے لیکن اس معاملے میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے جب کہ فرانس اور جرمنی کی طرف سے ترکی کی رکنیت کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ یورپی یونین کی رکنیت کے امور کے ذمہ دار ترک وزیر Ergemin Bagis نے رپورٹ کے مندرجات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت نے جو جمہوری اقدامات کیے ہیں رپورٹ میں ان کی تعریف کی گئی ہے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ رپورٹ میں غیر مسلم آبادی کے ساتھ مسلسل مذاکرات اور آرمینیا کے ساتھ ترکی کے تعلقات کو بھی مثبت انداز میں شامل کیا گیا ہے۔
لیکن استنبول کی Bachesehir University میں یورپی یونین کے مطالعے کے سربراہ پروفیسر چنگیز اختر کہتے ہیں کہ کمیشن کی اس قسم کی رپورٹیں محض علمی مشقیں بنتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ سراسر دیوانگی ہے۔ ایک طرف تو ترکی مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔ حکومت کردوں کے معاملے میں ،آرمینیا کے معاملے میں ، اور دوسری بہت سی باتوں میں آگے بڑھ رہی ہے۔ یورپی یونین کی رکنیت کے لیے تمام شرائط پوری کر دی گئی ہیں اور دوسری طرف مذاکرات بالکل معطل ہیں۔ یہ دن اور رات جیسا فرق ہے۔ کمیشن تو موجود ہے لیکن یورپی یونین کے رکن ممالک غیر حاضر ہیں۔ ترکی جو کوششیں کر رہا ہے وہ اس میں کوئی مدد نہیں دے رہے ہیں‘‘۔
ایک اختلافی مسئلہ قبرص کا ہے۔ قبرص 2004 سے یورپی یونین کا رکن ہے لیکن اس کے ترکی کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ 1974 میں یونان کی حمایت سے ہونے والے فوجی انقلاب کے بعد ترکی نے قبرص کے ایک تہائی شمالی حصے پر حملہ کر دیا تھا۔ یورپی یونین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ترکی نے قبرص کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے میں کوئی پیش رفت نہیں کی ہے اور یہ بات ضروری ہے کہ ترکی فوری طور پر اپنی بندرگاہیں اور ہوائی اڈے یونانی قبرص کے ٹریفک کے لیے کھول دے۔ لیکن ترک پارلیمینٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ترجمان Suat Kiniklioglu نے کہا ہے کہ ترکی اس وقت تک ایسا نہیں کرے گا جب تک یورپی یونین ترک قبرصیوں کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا نہیں کرتی۔ ان کے مطابق ’’ہماری پالیسی مشروط ہے۔ یورپی یونین نے ہم سے کہا تھا کہ قبرص کے ترک حصے کے ساتھ براہِ راست تجارت شروع کی جائے گی۔ لیکن ایسا اب تک نہیں کیا گیا ہے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، ہم اپنی بندرگاہیں قبرص کے یونانی حصے کے لیے نہیں کھول سکتے‘‘۔
برسلز نے یہ عندیہ ظاہر کیا تھا کہ اگر ترک قبرصیوں نے جزیرے کو متحد کرنے کے اقوامِ متحدہ کے منصوبے کے حق میں ووٹ دیا تو وہ پابندی ہٹا لے گا۔ ترک قبرصیوں نے ایسا ہی کیا، لیکن یونانیوں نے اسے مسترد کر دیا۔ بندرگاہوں کا تنازعہ اس سال کے آخر تک خطرناک صورت اختیار کر لے گا۔ ترکی نے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اگر وہ دسمبر تک اپنی بندرگاہیں یونانی قبرصیوں کے لیئے نہیں کھولتا تو یورپی یونین اس کے ساتھ مذاکرات معطل کر دے گی۔ ترکی کے بارے میں یورپی پارلیمینٹ کی کمیٹی کے Richard Howitt نے انتباہ کیا ہے کہ اس بات کا حقیقی خطرہ موجود ہے کہ ترکی نے اب تک جتنا اچھا کام کیا ہے وہ سب ضائع ہو جائے۔ لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس قسم کی دھمکی ترکی میں ایک زمانے میں موئثر ہوا کرتی تھی لیکن اب اس کی اہمیت بہت کم ہو گئی ہے۔
پروفیسر اختر کہتے ہیں کہ کروشیا کی رکنیت کی درخواست پر جتنی تیزی سے کارروائی ہوئی ہے، اس سے ترکی کی ناراضگی میں اور اضافہ ہوا ہے۔ کروشیا اور ترکی نے مذاکرات کا عمل ایک ہی دِن شروع کیا تھا۔ کروشیا 2010 کے آخر تک یورپی یونین کا رکن بننے کو تیار ہو گا جب کہ موجودہ رفتار سے، ترکی کو رکنیت کی منزل تک پہنچنے میں دس برس لگ جائیں گے۔ وہ آہستہ آہستہ ترکی سے ہاتھ دھوتے جا رہے ہیں۔
یورپی یونین کے اندر، اس قسم کی کوششیں کی جا رہی ہیں کہ رکنیت کے مذاکرات ختم ہو جائیں اور ترکی اور یورپی یونین کے درمیان پوری رکنیت کے بجائے تعاون کی کوئی اور شکل نکالی جائے۔ ترکی نے اسے اپنی توہین سمجھا ہے اور اصلاحات کا عمل اتنی تیزی سے جاری نہیں رکھا جا سکا ہے جتنا کہ بہت سے لوگ چاہتے ہیں۔