ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

ایشیا RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

نئی امریکی افغان پالیسی وہاں کے سیاسی اور سماجی حقائق کی روشنی میں تشکیل دی جائے: سینیٹر جان کیری

شیئر کیجیئے


امریکی  فوج کو افغانستان میں آئے  آٹھ برس  چکے ہیں مگر وہاں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر قابو نہیں  پایا جاسکا ہے۔  صدر اوباما کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں مزید فوجی بھیجنے کافیصلہ خوب سوچ سمجھ کرکریں گے۔ پیر کے روز فلوریڈا میں فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتہائی  ناگزیر صورت حال کے بغیر اپنے  فوجیوں کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔ بعض رپورٹس کے مطابق آٹھ ہفتے قبل افغانستان میں تعینات امریکی فوجی کمانڈر نے عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے 40 ہزار مزید فوجیوں کا مطالبہ کیاتھا۔ افغانستان کی صورت حال کے تناظر میں واشنگٹن میں ماہرین اس بارے میں غور کررہے ہیں کہ نئی افغان پالیسی کیا ہونی چاہیے۔ اسی حوالے سے سینیٹر کیری نے کونسل آن فارن ریلیشنز میں اظہار خیال کیا۔  انہوں نے حال ہی پاکستان اور افغانستان کا دورہ کیا ہے۔

افغانستان میں امریکی کارروائیوں کی  کامیابی کا انحصار کن نتائج پر ہے،   اور افغانستان میں سیاسی اور سماجی معاملات کی درستگی  میں امریکہ کوکہاں تک اقدامات کرنے چاہئیں؟   سینیٹر جان کیری نے کونسل آن فارن ریلیشنز میں  انہی  موضوعات  پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو افغانستان کے سیاسی اور سماجی  حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی  آئندہ پالسی تشکیل دینی چاہیے۔ 

انہوں  نے کہا کہ افغانستان میں انتہا پسندوں کو شکست دینے کے لیے فوجی کارروائیاں ہی کافی نہیں بلکہ اس کے لیے حکومت کا نظام بھی  بہتر کرنا ہو گا۔  

سینیٹر کیری کا کہنا تھا کہ گو افغانستان کے حالات کچھ بہتر ہوئے ہیں،  لیکن صورت حال میں مزید بہتری لانے کے لیے افغان حکومت اور امریکہ کے اتحادی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 

سینیٹر کیری کا کہنا تھا کہ افغانستان میں استحکام پیدا کرنا پاکستان کے مفاد میں بھی ہے،  اور امریکہ کودہشت گردی کے خلاف جنگ میں  اپنے اس اتحادی کی اہمیت کو بھی  مد نظر رکھنا چاہیے۔ 

سینیٹر کیری کے مطابق موجودہ امریکی حکومت کو  صدر بش کی حکومت کی پالسیوں سے کنارہ کشی  کرکے افغانستان کے لیے  ایک ایسی پالسی تشکیل دینی چاہیے جس سے امریکی عوام،  امریکی فوج،  افغانستان اور پاکستان،  سبھی کو فائدہ ہو اور تمام اتحادی مشترکہ طور پر انتہا پسندی کا مقابلہ  کر سکیں۔