ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

ایشیا RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

ایران: پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

شیئر کیجیئے


ایرانی پولیس کا حزب اختلاف کے ان مظاہرین سے تصادم ہوا ہے جنہوں نے تہران میں امریکی  سفارت خانے پر قبضے کے 30 سال پورے ہونے کے موقع پر حکومت کے خلاف مظاہرے دوبارہ شروع کیے تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس نے شکست خورہ صدارتی امیدار میر حسین موسوی  کی حمایت یافتہ مظاہروں کے لیے بدھ کے روز تہران کی سڑکوں پر آنے والےسینکڑوں لوگوں کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔

مظاہرین نےصدر محمود احمدی نژاد کے متنازع دوبارہ انتخاب کے خلاف جون میں شروع ہونے والے مظاہروں کا از سر نو آغاز کرتے ہوئے ڈکٹیٹر مردہ باد کے نعرے لگائے ۔

سڑکوں پر مظاہرے تقریباً اسی وقت ہوئے جب تہران میں مقفل امریکی سفارت خانے کے نزدیک  ایک امریکہ مخالف ریلی میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ۔

یہ مظاہرے  اس واقعہ کے تیس سال بعد ہوئے ہیں جب ایرانی طالب علموں نے امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول کر 52 امریکیوں کو 444 دن تک یرغمال بنایاتھا۔

امریکی صدر باراک اوباما نے  اس موقع پر ایران سے کہا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ آیا وہ ماضی پر مسلسل  مرکوز رہنا چاہتے ہیں یا وہ اپنے عوام کے لیے کسی نسبتاً بڑے موقع  کا راستہ کھولنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ باہمی دلچسپی اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔