برطانیہ اور روس نےایرانی عہدے داروں سے روس میں ایران کی یورینیم کی کم تر سطح پر افزودگی کےایک مجوزہ منصوبے پر فوری طورپر ردعمل ظا ہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ وہ اور ان کے روسی ہم منصب دونوں اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ افزودگی کے منصوبے پر ایران کی جانب سے فوری ردعمل دیکھنا چاہتے ہیں۔ مسٹر لاروف نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ ایران اس معاہدے کو منظور کرلے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے سے ایک ایسا ٹیکنیکل کمشن قائم کرنے کے لیے کہا ہے جو ایران کی کم تر درجے کی افزودہ یورینیم کے زیادہ تر حصے کو روس بھیجنے کے منصوبے کا جائزہ لے۔ افزودگی کے بعد اس یورینیم کو تہران کے تحقیقی ری ایکٹر میں ایندھن کے طور پر استعمال کے لیے واپس بھیج دیا جائے گا۔
منو چہر متکی نے یہ بات پیر کے روز ملائیشیا میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس سےقبل ہفتے کے روز ایران کے سینئر قانون سازوں نے یورینیم کو ملک سے باہر بھیجنے کی مخالفت کی تھی۔