اگر ایسا کہا جائے کہ موجودہ حالات امریکہ کی تاریخ میں بدترین نہیں تو حیران کن ضرور ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ہیلتھ ریفارم کے حوالے سے عوام اور حکومت کے درمیان تنائو کی سی کیفیت، افغانستان میں مزید فوجیں بھیجنے کا نیٹو کمانڈر کا مطالبہ، معیشت کی لڑکھڑاتی صورت ِ حال۔ ان سبھی چیزوں نے اوباما انتظامیہ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا رکھی ہے۔ ایسے میں امریکی وزیر ِ خارجہ ہیلری کلنٹن کا دورہ ِ روس اور ایران کے حوالے سے جاری کیے جانے والے سخت بیانات حیران کن ضرور ہیں۔ جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ امریکہ کی توجہ اس وقت نہ صرف اندرونی بلکہ پوری طرح سے بیرونی معاملات پر بھی لگی ہے۔
امریکی وزیر ِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے مسئلے پر ماسکو کے تعاون کو سراہا ہے۔ ان کے روسی ہم منصب لاروف سے ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب گزشتہ ماہ ایران نے مقدس شہر قم کے نزدیک یورینیم کی افزودگی کے ایک خفیہ جگہ کی نشاندہی کی ہے۔ جبکہ تہران اس بات پر مصر ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔
ہیلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور ماسکو اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنائے بغیر پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی حاصل کر سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کا کہنا کہ ہے ہم اس مسئلے کو پوری سنجیدگی سے دیکھنے کے باوجود یہ جانتے ہیں کہ شاید ہمیں اس میں وہ کامیابی حاصل نہ ہو سکے جو کہ ہم چاہتے ہیں۔ ماضی میں بھی ہم اپنے آپکو اور باقی دنیا کو یہ یقین نہیں دلا سکے کہ ایران نے ایٹمی پروگرام بند کرنے کے حوالے سے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا ہے جس کا نتیجہ ایران پر پابندیوں کی صورت میں نکلا۔
روسی وزیر ِ خارجہ لاروف کا کہنا ہےکہ موجودہ حالات میں ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی بات غلط ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ایران کو کسی سفارتی حل کی جانب راغب کرے۔
روسی روزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کے مسئلے پر ہم ایکدوسرے سے کوئی تقاضا نہیں کر رہے کیونکہ کسی بھی ایسے مسئلے پر کچھ بھی کہنا عجیب ہوگا جس پر ہماری پوزیشن ایک سی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے تمام معاملات اس طرح حل کیے جائیں کہ ایران، جوہری ہتھیار نہ رکھنے والے ملک کی طرح جوہری عدم پھیلاؤ کے تحت حاصل کردہ حقوق اور پر امن نیوکلیئر پاور انجنیئرنگ سے فائدہ اٹھا سکے۔
ایرانی سفارتکار یورینیم کی افزودگی کو کسی دوسرے ملک منتقل کرنے کے حوالے سے 19اکتوبر کو ویانا میں امریکہ، فرانس، روس اور اقوام ِ متحدہ سے گفت و شنید کریں گے۔
ماضی میں اقوام ِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی جانب سے تین مرتبہ تہران پر لگائے جانے والی پابندیاں بھی تہران کو یورینیم کی افزودگی سے نہیں روک سکیں۔