انڈونیشیا کا صدارتی انتخاب قریب آ رہا ہے۔ اور سیاسی تجزیہ کار یہ سوچ رہے ہیں کہ مسلمان تنظیمیں کیا کردار ادا کریں گی۔ اس سال کے آغاز میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اسلامی پارٹیاں کئی سیٹیں ہار گئیں۔ مگر پھر بھی دنیا میں مسلم آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے ملک کے اندر صدارتی امیداواروں کی نگاہ مسلمانوں کے ووٹ پر ہے۔
گو کہ میگاوتی سوکارنو پتری کے حمامیوں کی بڑی تعداد مسلمان ہے مگر وہ اس انتخاب میں ایک غیر مذہبی جماعت کو ووٹ دے رہے ہیں۔
انڈونیشیا میں اسی فیصد مسلمان اسے آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا مسلمان ملک بناتے ہیں۔ مگر یہاں کی اسلامی جماعتیں اپریل کے پارلیمانی انتخاب میں کافی سیٹیں ہار گئیں۔ وہ جماعتیں جنہیں صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے مطلوب ووٹ ملے، ان میں سے کوئی بھی مذہبی جماعت نہیں ہے۔
میگاوتی سوکارنوپتری کے حمامیوں کا کہنا ہے کہ یہ جماعتیں بھی اسلامی اقدار پیش کرتی ہیں۔
جہاں آزاد خیال جماعتوں کے امیدوار خود کو اچھا مسلمان کہتے ہیں وہیں اچھی انتظامیہ پر زور دیتے ہیں۔ محمد انور کا تعلق انٹرنیشنل سینٹر فار اسلام اور پلورل ازم سے ہے وہ کہتے ہیں اسلامی جماعتیں ہار گئیں کیونکہ انہوں نے انتظامی امور کے بجائے صرف مذہب کی بات کی۔
محمد انور کہتے ہیں کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ لوگ اس بارے میں زیادہ فکر مند ہیں کہ معاشی مسائل کو کیسے حل کیا جائے۔ قانون کی حکمرانی کیسے قائم کی جائے۔ اور بہتر انتظامی نظام کیسے قائم کیا جائے۔
انور کہتے ہیں کہ2002 میں بالی بم دھماکوں سے شروع ہونے والے دہشت گرد حملے انڈونیشیا میں تشدد یا انتہا پسند اسلامی تحریک کی تصویر پیش نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں ان حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کاروائی اور سخت سیکورٹی انتظامات نے دنیا میں انڈونیشیا کے جمہوری اقداروں کو پھر سے زندہ کیا ہے۔
مگر سیاسی آزاد خیالی کو اسلام سے انکار نہ سمجھا جائے۔ مسلمان ووٹروں کا کہنا ہے کہ اسلامی اقدار اور روایات ابھی بھی انتخاب میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ اس ووٹر کا کہنا ہے کہ اگر امیدوار اچھا مسلمان ہوا تو وہ اچھا حکمران بھی ہو گا۔
ایک اور کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مسلمان ہے تو اسے مسلمان امیدوار کو ہی ووٹ دینا چاہیے۔
سنی تانو ویجیاہ کاتعلق سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹدیز سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آزاد خیال جماعتوں نےچالاکی کے ساتھ کچھ اسلامی روایات کو اپنا لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی پارٹیوں کے ووٹرز کی حمائت حاصل کرنے کے لیے وہ اسلامی نظریات کی طرف بڑھ رہے ہیں اور روائتی اسلامی پارٹیوں کی بنیاد کو چیلنج کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلامی پارٹیاں اس سال انتخاب ہار گئ ہیں مگر انڈونیشیا کی سیاست میں ابھی بھی ان کا مظبوط کردار ہے اور وہ آئندہ انتخابات میں سخت حریف ثابت ہوں گی۔