’جب کبھی عالموں اور مہذب آدمیوں کو دیکھا، جہاں کہیں عمدہ مکانات دیکھے، جب کبھی عمدہ پھول دیکھے ۔۔۔ مجھ کو ہمیشہ اپنا ملک اور اپنی قوم یاد آئی اور نہایت رنج ہوا کہ ہائے ہماری قوم ایسی کیوں نہیں‘
17اکتوبر کو ساری دنیا میں سر سید احمد خاں کا یوم پیدائش نہایت جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ کیوں کہ ان کی خدمات کو قوم نہ تو کبھی فراموش کر سکتی ہے اور نہ کسی زمانے میں اس کی اہمیت کم ہو سکتی ہے۔ صرف یہی نہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کی تعلیم کی جانب توجہ کی تھی اور اس کے لیے ایک ادارہ قائم کیا تھا بلکہ اس لیے بھی کہ انہوں نے مسلمانوں کو احساسِ کمتری سے نکالا تھا۔
سر سید نے جس دور میں اپنا کام شروع کیا وہ بہت ہی پرآشوب دور تھا۔ جب ہندوستان کے مسلمان زوال پذیر تھے اور ان کی سیاسی قوت تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ 1857ء کے انقلاب کے بعد مسلمان انگریزوں کے زیرِتسلط آگئے تھے، بغاوت کے نتیجے میں ایمان دار، باصلاحیت اور اعلیٰ کردار مسلمان معتوب ہوئے اور بے ایمان، بے ضمیر اور بد کردار لوگ آگے آگئے۔ سر سید کی دور اندیش نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ مسلمان بہت جلد ملک میں دوسرے درجے کے شہری بننے جار ہے ہیں اور انہوں نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ مسلمان دوبارہ برسرِاقتدار نہیں آنے والے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ یہ تبدیلی صرف حکمرانوں کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ نظامِ حکومت بھی بدل رہا تھا اور جاگیردارانہ نظام کی جگہ صنعتی نظام قائم ہونے لگا تھا۔ سیاسی برتری کے ساتھ یورپی تمدن، تہذیب اور معاشرت کو بھی برتری کا درجہ حاصل ہو رہا تھا۔ یورپی علوم اور سائنسی ترقیات نے ایک جانب جہاں لوگوں کی نگاہو ں کو خیرہ کر دیا تھا وہیں مسلمانوں کے احساس محرومی کو بڑھا دیا تھا۔ اب صورتِ حال یہ تھی کہ ان حالات کو مقدر سمجھ کر زمانے کے سامنے ہتھیار ڈال دیے جائیں یا زمانے کے جدید تقاضوں کو سمجھ کر جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر حقیقت پسندانہ انداز میں قوم کی تعمیر کی جائے۔ سر سید احمد خاں نے زمانے کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے حقیقت پسندانہ انداز میں قوم کی تعمیر نو کا بیڑا اٹھایا اور اس میں وہ کامیاب بھی ہو گئے۔
سر سید نے زیادہ زور جدید تعلیم پر دیا۔ ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی تھی کہ جدید تعلیم کے بغیر مسلمانوں کا مستقبل بالکل تاریک ہے۔ سر سید کی دوربیں نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ زندگی نے جو رخ اختیار کر لیا ہے اس کو بدلا نہیں جا سکتا۔ اس میں رکاوٹ پیدا کر کے اس کی رفتار کو بھی روکا نہیں جا سکتا بلکہ ایسا کرنے والے خود تباہ و برباد ہو کر رہ جائیں گے۔ اس لیے انہوں نے تمام تر توجہ جدید تعلیم کے فروغ پر مرکوز کر دی۔ سائنٹفک سوسائٹی کا مقصد ہی اپنے ہم وطنوں کو جدید علوم سے روشناس کرانا تھا۔
اس سوسائٹی کے جلسوں میں جس میں نئے نئے سائنسی مضامین پر لیکچر ہوتے اور آلات کے ذریعہ تجربے بھی کیے جاتے، کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستانیوں کو بتایا جا سکے کہ بنا جدید علوم خاص طور پرسائنس کے میدان میں ترقی نہیں کی جا سکتی اور اسی لیے سائنٹفک سوسائٹی نے جن دو درجن کتابوں کا ترجمہ کرایا ان میں چند کو چھوڑ کر زیادہ تر ریاضی اورسائنس سے متعلق تھیں۔ سر سید احمد خاں کو اس بات کا یقین ہوگیا تھا کہ یورپ جس راستے پر جا رہا ہے اور جو تعلیم حاصل کر رہا ہے وہی راستا اور تعلیم مستقبل کی ترقی کی گارنٹی ہے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ وہ درسگاہیں کیسی ہیں اور ان کا نظام تعلیم کیا ہے؟ اس لیے وہ خود انگلستان گئے، وہاں کے تعلیمی نظام کو دیکھا، تعلیمی اداروں میں رہے، اساتذہ سے ملاقاتیں کیں اور اس بات کا کھلے دل سے اعتراف کیا کہ انگلستان کی ہر چیز نے ان کو متاثر کیا۔ انہوں نے کہا:
” میں نے صرف اس خیال سے کہ کیا راہ ہے جس سے قوم کی حالت درست ہو، دور دراز سفر اختیار کیا اور بہت کچھ دیکھا جو دیکھنے کے لائق تھا میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جب میں نے کوئی عمدہ چیز دیکھی، جب کبھی عالموں اور مہذب آدمیوں کو دیکھا، جب کبھی علمی مجلسیں دیکھیں، جہاں کہیں عمدہ مکانات دیکھے، جب کبھی عمدہ پھول دیکھے، جب کبھی کھیل کود، عیش و آرام کے جلسے دیکھے، یہاں تک کہ جب کبھی کسی خوب صورت شخص کو دیکھا مجھ کو ہمیشہ اپنا ملک اور اپنی قوم یاد آئی اور نہایت رنج ہوا کہ ہائے ہماری قوم ایسی کیوں نہیں، جہاں تک ہو سکا ہر موقع پر میں نے قومی ترقی کی تدبیروں پر غور کیا سب سے اول یہی تدبیر سوجھی کہ قوم کے لیے قوم ہی کے ہاتھ سے ایک مدرسہ العلوم قائم کیا جائے جس کی بنا آ پ کے شہر میں اور آپ کے زیر سایہ پڑی۔ “
حیات جاوید، مصنفہ، خواجہ الطاف حسین حالی #۔ صفحہ۔187
سر سید جدیداعلیٰ تعلیم سے اپنی تمام تر امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے، چاہے وہ اخلاق کی بلندی ہو، معاشی ترقی و خوش حالی ہو یا سائنسی یا تکنیکی ایجادات و کمالات ہوں۔ بقول ان کے یہ تعلیم ہی ہے جو علوم و فنون کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرتی ہے اور معاشی ترقی کی راہیں ہموار کرتی ہے۔ سر سید کے مطابق قوم میں صلاحیتوں کا فقدان نہیں ہے بلکہ صلاحیتیں غلط کاموں میں استعمال ہو رہی ہیں اور ان کو صحیح خطوط پر ڈالنا بے حد ضروری ہے۔ سرسید نے خود لکھا ہے:
”مجھ کو اس بات کا رنج ہے کہ میں اپنی قوم میں ہزاروں نیکیاں دیکھتا ہوں پر ناشائستہ۔ ان میں نہایت دلیری اور جرات پاتا ہوں پر خوف ناک، ان میں نہایت قومی استقلال دیکھتا ہوں پر بے ڈھنگا، ان کو نہایت دانا اور عقل مند پاتا ہوں پراکثر مکر و فریب اور زور سے ملے ہوئے۔ ان میں صبر و قناعت بھی اعلیٰ درجہ کی ہے مگر غیر مفید اور بے موقع۔ پس میرا دل جلتا ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ اگر یہی ان کی عمدہ صفتیں، عمدہ تعلیم و تربیت سے آراستہ ہو جاویں تو دین و دنیا دونوں کے لیے کیسی کچھ مفید ہوں۔ “
”تہذیب الاخلاق “۔ یکم شوال، 1289ہجری
سر سید احمد خاں کو احساس ہو گیا تھا کہ یہ تعلیم کا ہی فقدان تھا جس کے باعث مسلمانوں میں ہر طرح کی مذہبی، معاشی، اقتصادی اور تہذیبی خرابیاں پیدا ہوئیں اور اسی لیے سر سیدنے اپنی عملی زندگی میں سب سے زیادہ زور تعلیم وتربیت پر دیا۔ سر سید کی تعلیم میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے طلبا کو کتابی کیڑا بننے سے روکا بلکہ ان کے مطابق جب تک طلبا میں روحانی شگفتگی نہ آجائے اور ان کا دل اور دماغ روشن نہ ہو جائے، تعلیم بے کار ہے۔ بقول سر سید عالموں کا حال ایسا ہے کہ روحانی قویٰ بالکل نیست و نابودہو گئے ہیں۔ دلی اور روحانی قویٰ شگفتگی کے اعتبار سے بالکل مردار ہو گئے ہیں۔ اسی لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ سر سید نے ہمیشہ تربیت پر زوردیا۔
چوں کہ انہوں نے انگلستان میں دیکھا تھا کہ طلبا کی تربیت میں اساتذہ کا سب سے اہم کردار ہوتا ہے اس لیے انہوں نے ضرورت پڑنے پر اونچی تنخواہ دے کر انگلستان سے باصلاحیت افراد کو بلایا۔ طلبا کی تعلیم کے لیے پر وقار اور شاندار عمارتوں کی تعمیر کروائی تاکہ طلبا کے ذہنوں پر ان کے عمدہ اثرات مرتب ہوں، طلبا کو ایسا ماحول ملے جو ان کی شخصیت کو نکھارنے میں معاون ثابت ہو، ایسا صاف ستھرا ماحول ہو جو ان کی صورت کے ساتھ ساتھ سیرت کو بھی صاف ستھرا بنا دے۔ ان میں بلند نظری پیدا کرے ان کی روح کو شگفتہ اور شاداب کرے اور دل کے سوتوں کو کھول دے۔
تربیت کی ہی خاطر انہوں نے رہائشی ہوسٹلوں کا نظام قائم کیا تاکہ طلبا کا سارا وقت باصلاحیت، باکردار اور شاندار اساتذہ کی نگرانی میں گزرے۔ ان کا رہنا سہنا، کھیلنا، کودنا، سونا جاگنا، مطالعہ اور زندگی کے تمام امور ضابطوں کے ساتھ انجام پائیں اور ان میں ڈسپلین کا جذبہ پیدا ہو، سیرت کی اعلیٰ صفات پید اہوں اور مسلسل تربیت کے ذریعہ ان میں پختگی آجائے۔ بقول علامہ اقبال:
” مسلمانان ایشیا اب تک سر سید احمد خاں کی ذہنی کاوش کو سمجھنے کے قابل نہیں ہو سکے۔“
سر سید قوم کے اندر ایک ایسا جذبہ بیدا کرنا چاہتے تھے جس کے ذریعہ قوم میں حقوق کو حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے بقول ان کے:
”میں ہندوستانیوں کی ایسی تعلیم چاہتا ہوں کہ اس کے ذریعہ ان کو اپنے حقوق حاصل ہونے کی قدرت ہو جائے، اگرگورنمنٹ نے ہمارے کچھ حقوق اب تک نہیں دیے ہیں جن کی ہم کو شکایت ہو تو بھی ہائی ایجوکیشن وہ چیز ہے کہ خواہ مخواہ طوعاً و کرہاً ہم کو دلا دے گی۔“
اس محسن قوم و ملت کی پیدائش 17 اکتوبر 1817ءکو دہلی کے ایک متمول خاندان میں ہوئی تھی انہوں نے باقاعدہ کسی درس گاہ میں تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن اپنی کھلی آنکھوں سے زمانے کا مطالعہ کیا تھا اور بہت گہرائی سے کیا تھا۔ 1857ء کے واقعات کے بعد انہوں نے مسلمانوں کو کمتری کے احساس سے نکالنے کے لیے”اسباب بغاوت ہند“ لکھی۔ 1875ء میں ”محمڈن اینگلو اورینٹل کالج“ کی داغ بیل ڈالی جسے 1920ء میں یونیورسٹی کا درجہ ملا اور آج اسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی حیثیت سے عالمی شہرت حاصل ہے۔
سر سید نے قرآن کی تفسیر بھی لکھی تھی وہ سات جلدیں مکمل کر چکے تھے مگر اسے پایہٴ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ 27مارچ 1898ء میں علی گڑھ میں ان کا انتقال ہو گیا اور وہیں ان کی تجہیز و تکیفن ہوئی۔
سر سید احمد خاں کا قوم پر اتنابڑا احسان ہے کہ برصغیر میں مسلمانوں میں آج جو تعلیم نظر آرہی ہے اس کی بنیاد انہوں نے ہی ڈالی تھی۔ حالانکہ انگریزی تعلیم کی وکالت کرنے کے سبب ان پر متعدد کفر کے فتوے صادر ہوئے لیکن انہوں نے کسی کی ایک نہ سنی اور ان کے بارے میں یہاں تک کہا گیا:
وہ بھلا کب کسی کے مانے ہے
بھائی سید تو کچھ دوانے ہیں
اور یہ دیوانگی ہی تھی جس نے سر سید کو مسلمانوں کی تعلیم کے تئیں بیدار کیاتھا۔ ورنہ فرزانے تو بس ساحل سے تماشا دیکھ رہے تھے۔ سرسید کی زندگی میں ان کا سب سے بڑا ناقد اکبر الہ آبادی بھی سرسید کے بارے میں یہ اعتراف کیے بنا نہ رہ سکے:
ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا تھا
نہ بھولو اس کو جو کچھ فرق ہے کہنے میں کرنے میں
یہ دنیا چاہے جو کچھ بھی کہے اکبر یہ کہتا ہے
خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں