ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

ادب و ثقافت RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

خلیل جبران اور آج کا پاکستان

شیئر کیجیئے

کیا بڑے شاعروں کے پاس ایسی کوئی حس ہوتی ہے جس انھیں مستقبل میں آنے والے واقعات کی جھلک دکھا دیتی ہے؟ اگر یہ بات درست نہیں ہے تو پھر لبنانی شاعر خلیل جبران کی آج سے 77 سال پہلے تحریر کردہ نظم پڑھتے ہوئے یہ کیوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ آج ہی کے دن لکھی گئی ہے؟

افسوس اس قوم پر جس کی رہبر لومڑی ہو
جس کا فلسفی مداری ہو
جس کا فن پیوندکاری اور نقالی ہو
 افسوس اس قوم پر جو ہر نئے حکمران کا استقبال ڈھول تاشے سے کرے
اور رخصت گالم گلوچ سے

اور وہی ڈھول تاشے ایک نئے حاکم کے لیے بجانا شروع کر دے

یہ خلیل جبران کی ایک نظم کا اقتباس ہے جو اس نے 1934ء میں لکھی تھی۔ جبران لبنان کا رہنے والا تھا اور عین ممکن ہے کہ یہ نظم اپنے وطن کے حالات بلکہ حالاتِ زار کی نشان دہی کرتی ہو، لیکن یہ آج کے حالات پر یوں منطبق ہوتی ہے جیسے انگوٹھی میں نگینہ۔ نظم ملاحظہ فرمائیے:

میرے دوستو اور ہم سفرو
افسوس اس قوم پر جو یقین سے بھری لیکن مذہب سے خالی ہو
افسوس اس قوم پر جو ایسا کپڑا پہنے جسے اس نے خود بنا نہ ہو
جو ایسی روٹی کھائے جسے اس نے اگایا نہ ہو
ایسی شراب پیےجو اس کے اپنے انگوروں سے کشید نہ کی گئی ہو

افسوس اس قوم پر جو دادا گیر کو ہیرو سمجھے
اور جو چمکیلے فاتح کو سخی گردانے
افسوس اس قوم پر جو خواب میں کسی جذبے سے نفرت کرے
لیکن جاگتے میں اسی کی پرستش کرے

افسوس اس قوم پر جو اپنی آواز بلند کرے
صرف اس وقت جب وہ جنازے کے ہم قدم ہو
ڈینگ صرف اپنے کھنڈروں میں مارے
اور اس وقت تک بغاوت نہ کرے
جب تک اس کی گردن مقتل کے تختے پر نہ ہو

افسوس اس قوم پر جس کی رہبر لومڑی ہو
جس کا فلسفی مداری ہو
جس کا فن پیوندکاری اور نقالی ہو

افسوس اس قوم پر جو ہر نئے حکمران کا استقبال ڈھول تاشے سے کرے
اور رخصت گالم گلوچ سے
اور وہی ڈھول تاشے ایک نئے حاکم کے لیے بجانا شروع کر دے

افسوس اس قوم پر جس کے مدبر برسوں کے بوجھ تک دب گئے ہوں
اور جس کے سورما ابھی تک پنگھوڑے میں ہوں

افسوس اس قوم پر جو ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہو
اور ہر ٹکڑا اپنے آپ کو قوم کہتا ہو


لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ خلیل جبران کی اسی نظم سے متاثر ہو کر مشہور نراجیت پسند امریکی شاعر لارنس فرلنگیٹی نے 2007ء میں ایک نظم لکھی، جو بلاتبصرہ آپ کی خدمت میں حاضر ہے:

افسوس اس قوم پر جس کے عوام بھیڑیں ہوں
اور جنھیں اپنے ہی چرواہے گم راہ کرتے ہوں
افسوس اس قوم پر جس کے رہنما جھوٹے ہوں
اور دانا خاموش

جہاں منافق ہوا کے دوش پر راج کرتے ہوں
 افسوس اس قوم پر جو آواز بلند نہیں کرتی
مگر صرف اپنے فاتحوں کی تعریف میں
اور جو داداگیروں کو ہیرو سمجھتی ہے
اور دنیا پر حکومت کرنا چاہتی ہے
طاقت اور تشدد کے بل پر

افسوس اس قوم پر
جو صرف اپنی زبان سمجھتی ہے
اور صرف اپنی ثقافت جانتی ہے
افسوس اس قوم پر جو اپنی دولت میں سانس لیتی ہے
اور ان لوگوں کی نیند سوتی ہے جن کے پیٹ بھرے ہوئے ہوں
افسوس، صد افسوس ان لوگوں کی قوم پر
جو اپنے حقوق کو غصب ہونے دیتی ہے

میرے ملک
میری سرزمینِ آزادی
تیرے آنسو!

 

رائے اور تبصرہ (12)

28-10-2009 سيد اعجاز (سعودي عرب)

الله تعالى ہماری قوم كو هدايت دے۔ خليل جبران نے ني الواقع حق لكھا ہے۔ ميري دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قابل رہنما سے نوازیں ۔۔۔ آمین

29-10-2009 muhammad Tahir Siddique (Pakistan)

یہ تاریخ سے آنے والی اچھی شاعری ہے، جو آج کی تصویر دکھاتی ہے۔

29-10-2009 beenish siddiqua (karachi.pakistan.)

میرے وطن کی سیاست کا حال مجھ سے نہ پوچھ ۔۔۔ گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں

29-10-2009 ARIF GARDEZI (UAE)

اگر خلیل جبران زندہ ہوتا تو ،اپنے الفاظ کو حقیقت کا روپ دھارتے دیکھ کر شاید مزید زندہ نہ رہ سکتا،

29-10-2009 abida aslam (canada)

بہت خوب، شاعر ولی ہوتا ہے - اس کی آواز الفاظ خیالات ہر حسا س دل کی پکار ہوتے ہیں-میں صرف اتنا کہنے کی جسارت کروں گی -افسوس اس قوم پر جو قوم بننے کا صرف خواب دیکھتی ھےلیکن خوابوں سے باہر نہں نکل پاتی خوابوں میں خواب بنتے بنتے خواب بن کر رہ جاتی ہے-

30-10-2009 Nazeer Orakzai (Pakistan Kohat)

افسوس ان حکمرانوں پر جنھیں صرف اپنی حکمرانی کا غم ہوتا ہے، لیکن اپنے ملک اور عوام کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ اللہ پاک ہماری قوم کو ہدایت عطا کرے۔ آمین۔

31-10-2009 محسن علي شاه (سعودي عرب)

افسوس اس قوم پر جس نے اپنے لیے ایسا حکمران منتخب کیا۔

01-11-2009 Talat Isharat (america)

کیا آج کی دنیا میں کوئی ایسی قوم ہے جس پر یہ تجزیہ فٹ نہیں ہوتا؟

02-11-2009 arifkarim (norway)

افسوس اس قوم پر جس کو یہی نہیں پتا کہ وہ ایک قوم ہے بھی کہ نہیں!

07-11-2009 ali ahmad (pakistan)

یہ ہماری قوم پر صحیح ثابت ہوتا ہے جسے حکمران لومڑیاں ملے ہیں۔

10-11-2009 wali khan khilji (pakistan)

خلیل جبران کی نظم نہ صرف ہمارے حکمرانوں کو پیغام دیتی ہے بلکہ سب سے بڑی بات تو انھوں نے عوام کو بتائی ہے کہ اپنی تقدیر بدلنے کے لیے خود جاگنا ہو گا۔ وہ کہتے ہیں نا کہ حق مانگنا گناہ ہے حق چھین لینا چاہیئے۔ اگر عوام اسی طرح روتی رہی تو حکمران شاہ خرچیاں کرتے رہیں گے اور عوام آٹا لینے کے لیے لائن میں ڈنڈے کھائیں گے۔

16-11-2009 Mumtaz (Abu Dhabi UAE)

خلیل جبران نے جو کچھ کہا تھا وہ ٓآج ہم دیکھ رہے ہیں۔ خلیل جبران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس صدی کے شاعر تھے۔

اپنی رائے ارسال کیجئے

* لازمی



آپ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آپ کے تبصرے کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور ممکن ہے اسے شائع نہ کیا جائے۔ وی او اے آپ کے تبصرے کو دنیا بھر میں نشر کرنے کا حق رکھتا ہے۔ استعمال اور پرائیویسی نوٹس