ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

ادب و ثقافت RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

جناح کے بعد علامہ اقبال بی جے پی کے نشانہ پر

شیئر کیجیئے

بانی پاکستان و قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد بنیاد پرست بی جے پی نے شاعر مشرق علامہ اقبال کو نشانہ بنایا ہے۔اقبال کا لکھا قومی گیت ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ آج بھی ہر ہندوستانی کی زبان پر ہے لیکن فرقہ پرست طاقتیں اقبال کو تقسیمِ ہند اور پاکستان کے قیام کا ذمے دارمانتی ہیں۔

صوبہ مدھیہ پردیش جہاں بی جے پی کی حکومت ہے، وہاں کے ایک جے پی رکن صوبائی اسمبلی گریجا شنکر شرما نے الزام عائد کیا ہے کہ دو قومی نظریہ سب سے پہلے اقبال نے پیش کیا تھا۔صوبہ کے ہوشنگ آباد اسمبلی حلقہ سے منتخب رکن اسمبلی نے حکومت سے مظالبہ کیا کہ ہر سال دیا جانے والا اقبال سمان ایوارڈ منسوخ کردیا جائے۔

ایک خبررساں ادارے سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے دو قومی نظریہ پیش کیا تھا اور وہی جناح کے ذہن میں تقسیم کا بیج بونے کے لیے ذمہ دار ہیں۔شرما کا کہنا ہے کہ اقبال جناح کے روحانی رہنما تھے اور انہوں نے پاکستان کی تشکیل میں جناح سے زیادہ کردار ادا کیا تھا۔

گریجا شنکر شرما نے صوبہ کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور بی جے پی کی قومی قیادت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے صوبہ کے اقبال سمان ایوارڈ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایوارڈ اقبال کے بجائے کسی اور اردو اسکالر کے نام سے دیا جائے۔

واضح رہے کہ صوبے کے محکمہٴ ثقافت کی جانب سے علامہ اقبال کی یاد میں ہر سال ایک اردو ادیب یا شاعر کو اقبال سمان ایوارڈ عطا کیا جاتا ہے ملک کے یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کے موقع پر اقبال کے قومی گیت ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ کی گونج ہر طرف سنائی دیتی ہے۔

حال ہی میں جناح کی ستائش کرنے پر بی جے پی نے سینئر قائد جسونت سنگھ کو پارٹی سے خارج کردیا۔

اسی دوران مدھیہ پردیش کانگریس پارٹی کے ترجمان کے مشرا نے بی جے پی قائد کے بیان کو تنگ نظری قرار دیا اور پارٹی سے ان کے اخراج کا مطالبہ کیا۔جماعت اسلامی مدھیہ پردیش کے ترجمان انور صفی اور کل ہند مسلم تہوار کمیٹی کے صدر شاہ میر خرم نے بھی بی جے پی رہنما کے بیان کی مذمت کی اور کہا کہ علامہ اقبال اردو کے عظیم شاعر تھے اور مہاتما گاندھی بھی ان کا احترام کرتے تھے۔اقبال کی یاد میں ایوارڈ کا قیام صوبے کے لیے فخر کا باعث ہے۔